عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ودروبحر وفتح وع) (۵۰) وضو میں جو فعل مکروہ ہے اس کو ترک کرنا اس لئے کہ مستحب کا ترک کرنامکروہ تنزیہی ہے۔ (ش تصرفاً) مکروہات ِوضو مکروہ یعنی (ناپسندیدہ) محبوب (یعنی پسندیدہ) کی ضد ہے فقہا کے نزدیک مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایک مکروہ تحریمی ہے او رجب مطلق مکروہ لکھتے ہیں تواس سے ان کی مراد اکثر مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور یہ واجب اور سنت مؤکدہ کے بالمقابل ہوتا ہے یعنی واجب اور سنت مؤکدہ کا ترک مکروہ تحریمی ہے اور دوسری مکروہ تنزیہی ہے اور سنت غیر مؤکدہ یعنی مستحب کے بالمقابل ہوتا ہے پس مستحب کا ترک مکروہ تنزیہی ہے مکروہ تنزیہی کو خلاف اولیٰ بھی کہتے ہیں بلکہ خلاف اولیٰ زیادہ عام ہے پس ہر مکروہ تنزیہی خلاف اولیٰ ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس ہر خلاف اولیٰ کا مکروہ تنزیہی ہونا ضروری نہیں اس لئے ترک مستحب میں جب تک کراہت کی خاص دلیل نہ ہو تو مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا، وضو کے مکروہات بکثرت ہیںان میں سے مشہور مکروہات مندرجہ ذیل ہیں: (مستفاد عن م وش وط وبحر ملحضاً) ۱۔ پانی اس قدر کم خرچ کرے کہ مستحب ادا نہ ہو یا اسراف یعنی بے جازیادہ خرچ کرنا مکروہ ہے اگرچہ نہر کے کنارے پر وضو کرے، (دروم وط وغیرہا ملتقطاً) اگر اعضائے وضو کو تین بار سے کم دھونے کی عادت ہے تو مکروہ ہے اور وہ گنہگار ہوگا اوراگر اس کی عادت نہ ہو بلکہ کبھی کبھار ایساکرے یا کسی عذر کی وجہ سے کرے تو مکروہ نہیں ہے اور گنگار بھی نہیں ہوگا، (بحروط وش وع) حاجت شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال کرنا اسراف ہے، (ش وط) اور وہ عددمسنون یعنی تین مرتبہ سے زیادہ دھونا اور مقدار مسنون یعنی ایک مُد سے زیادہ پانی استعمال کرنا، (ط) اگر سنت ہونے کے اعتقاد سے تین مرتبہ سے زیادہ دھویا تو مکروہ