عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۱۰) اور اگر کچھ نفقہ پیچھے چھوڑدیا اور باقی نفقہ سے میت کی طرف سے حج کیا تو جائز ہے او ر وہ اس چھوڑے ہوئے نفقہ کا ضامن ہوگا ۷؎ (۱۱) اور خانیہ میں ہے اگر میت کے نفقہ کی رقم مکہ معظمہ میں یا اس کے قریب ضائع ہوگئی اور کچھ باقی نہ رہا پھر مامور نے اپنے مال میں سے خرچ کیا تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ میت کے مال سے وصول کرلے اگر چہ اس نے اس کی اجازت کے بغیر ایسا کیا ہو کیونکہ جب میت نے اس کو حج کا امر کیا تو بالضرور اس نے اس بات کا بھی امر کیا ہے کہ اس کے مال میں سے خرچ کیا جائے ۸؎ (۱۲) اور مامور نے مستعمل راستہ کی بجائے دوسرے دُور والے راستہ سے سفر کیا اگر وہ راستہ ایسا ہے جس سے لوگ آتے جاتے ہیں تو آمر کے مال سے خرچ کرے ورنہ اپنے مال سے خرچ کرے ۹؎ شرطِ ششم : (۱) صحیح قول کی بِنا پر حج بدل کے لئے ایک شرط یہ ہے کہ اجرت پر حج نہ کرایا جائے کیونکہ حج اور دیگر عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں ہے اور کتبِ متون میں قرآن مجید کی تعلیم کو اس حکم سے مستثنیٰ قراردیا ہے اور صدر الشریعۃؒ نے فقہ کی تعلیم کو بھی مستثنیٰ قراردیا ہے، مجمع اور مختار میں ان مستثنیات میں امامت کو زیادہ کیا ہے اور بعض نے اذان کو بھی ان میں شامل کیا ہے اور تنویر الابصار کے متن میں ان چاروں کو جمع کردیا ہے ۔ علامہ شرنبلالیؒ نے اپنے رسالہ بلوغ الارب میں صراحت کی ہے کہ ہمارے مشائخ میں کسی نے بھی حج پر اُجرت لینے کے جواز کا ذکر نہیں کیا ۱؎