عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نماز ظہر ادا کرنا شرط نہیں ہے حتی کہ اگر نماز ظہر کا کچھ حصہ امام کے ساتھ ادا کرلیا تو اس کو جمع بین الصلوٰتین جائز ہے ۶ ؎ اور اسی طرح اگر دونوں نمازوں میں سے کچھ حصہ امام کے ساتھ مل گیا تو جمع کرنے کیلئے کافی ہے ۷ ؎ پس اگر کسی شخص کو دونوں نمازوں میں سے ایک ایک رکعت یا رکعت کا کچھ حصہ مل گیا تو جمع کرناجائز ہے ۸؎ مثلاً کسی شخص کو ظہر کی نماز میںایک رکعت یا رکعت کا کچھ حصہ ملا پھر امام کھڑا ہو گیا اور اس نے عصر کی نماز شروع کردی اور وہ مسبوق شخص اپنی ظہر کی نماز کا فوت شدہ حصہ اداکرنے کے لئے کھڑا ہو گیا پھر اپنی نماز ظہر سے فارغ ہو کر عصر کی نماز میں امام کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس کو عصر کی نماز کا کچھ حصہ مل گیا تو کافی ہے یعنی جب اس کو دونوں نمازوں سے کچھ حصہ امام کے ساتھ مل گیا تو اب اس کو عصر کی نماز ظہر کے وقت میں ادا کرنا بلا خلاف جائز ہے کیونکہ اس نے جماعت کی فضیلت حاصل کرلی پس اس کی عصر کی نماز ظہر کا مل پر مرتب ( ترتیب وار ) واقع ہوئی ہے ۹؎ اگر امام فوت ہوگیا اور وہ خلیفہ وقت ہے تو اس کا نائب یا صاحب شرط ( حاکم ) دونوں نمازوں کو جمع کر کے پڑھائے کیونکہ نائبین خلیفہ کی موت سے معزول نہیں ہو جاتے اور اگر بادشاہ وقت کا کوئی بھی نائب موجود نہ ہو تو امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک سب لوگ دونوں نمازوں کو اپنے اپنے وقت میں ادا کریں ۱۰؎ بخلاف نمازِ جمعہ کے کہ اگر بادشاہِ وقت فوت ہوجائے اور لوگوں میں کوئی اس کا نائب یعنی صاحب اقتدار نہ ہو اور لوگ کسی شخص کو امام بنالیں جو ان کو نماز جمعہ پڑھائے تو جائز ہے اس لئے کہ نماز جمعہ فرض ہے اگر لوگ اپنے میں سے کسی کو امام نہیں بنائیں گے تو ان کا فرض فوت ہو جائے گا پس ان کے لئے عذر ثابت ہو گیا بخلاف عرفات میں نماز ظہر و عصر کو جمع کرنے کے کہ یہ فرض و واجب نہیں ہے لہٰذا اس کو فرض پر قیاس نہیں کیا