عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
روزہ واجب ہونے کا سبب چونکہ فرض و واجب روزہ کی اقسام مختلف ہیں اس لئے اس کے واجب ہونے کے اسباب بھی مختلف ہیں پس نذر کے روزے میں وجوب کا سبب نذر(منت)ہوتی ہے اور کفارات کے روزوں میں وجوب کا سبب وہی امور ہوتے ہیں جن کے سبب سے کفارہ لازم ہوتا ہے جیسے قسم کا توڑنا قتل کرنا اور ظہار اور رمضان کا ادائی روزہ توڑ دینا۔یعنی کسی نفس کو خطاء قتل کرنا یا احرام کی حالت میں شکار قتل کرنا۔ یعنی روزے کے اسباب یہ ہیں نذر کے روزے کا سبب نذر ماننا اور کفارات کے روزوں کا سبب قسم میں اس کا توڑ دینا اور قتل نفس خطاء اور قتل صید فی الحرام میں جنایت اور رمضان کے روزوں میں کسی روزہ کا توڑ دینا اور کفارہ ظہار میں وطی پر عزم اور نفل میں اس کا شروع کرنا روزے کے وجوب کے اسباب ہیں۔ اور قضائی روزوں کے وجوب کا سبب وہی ہے جو ادائی روزوں کے وجوب کا ہے۔ اور رمضان کے ادائی روزوں کے فرض ہونے کا سبب رمضان کے مہینے کے کسی جزو کا پایا جانا ہے بالا اتفاق پھر اس میں فقہا نے اختلاف کیا ہے پس بعض نے کہا ہے کہ اس کا سبب اس مہینے میں مطلق وقت ہے خواہ اس کے دن کا وقت ہو یا رات کا اور اس کو سرخسی وغیرہ نے اختیار کیا ہے ۔اور فخر الاسلام وغیرہ نے یہ اختیار کیا ہے کہ ہر دن میں وہ خبرواس کے فرض ہونے کا سبب ہے جس میں کہ روزہ کا شروع کرنا ممکن ہو اور یہ صبح صادق کے طلوع سے ضحوۃ کبریٰ (ٹھیک دوپہر ) سے ذرا پہلے تک کا وقت ہے لیکن رات اور ضحہ کبریٰ اور اس کے بعد کا وقت تو ان دونوں وقتوں میں روزہ کا شروع کرنا ممکن نہیںہے اور رات میں صرف نیت کا ہونا تو ممکن ہے لیکن روزہ کا شروع ہونا ممکن نہیں ہے ۔ لیکن سحر میں تو تصریح کی ہے کہ امام الدبوسی و فخرالاسلام اور ابوالیسر اس طرف گئے