عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جائے گا اور غسل کا تیمم بدستور باقی رہے گا پس وہ اب جنبی نہیں ہوا بلکہ محدث یعنی بے وضو ہوگیا اب اگر بقدر وضو پانی پائے خواہ ایک ایک ہی دفعہ کے لئے ہو تو وضو کرے ورنہ صرف وضو کا تیمم کرے اور جب تک اتنا پانی نہ ملے جو غسل کے لئے کفایت کرے اس وقت تک ایسا ہی کرے اور جب غسل کے لئے پانی مل جائے تو بغسل کا تیمم ٹوٹ جائے گا اگر اب بھی غسل نہ کیا اور پانی کی جگہ سے گذر گیا تو اب پھرے غسل کے لئے تیمم کرے کیونکہ پہلا تیمم پانی پر قادر ہونے سے ٹوٹ گیا، جنابت کے تیمم کے ساتھ وضو کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ غسل کا تیمم دونوں کے لئے کافی ہے پس اگر جنبی کے پاس اتنا پانی ہو کہ وضو کے لئے تو کفایت کرتا ہے لیکن غسل کے لئے کفایت نہیں کرتا تو اس پر تیمم کرنا واجب ہے اور وضو واجب نہیں، اب اگر غسل کے تیمم کے بعد حدث اصغر واقع ہو جائے تو اب اس پر وضو کرنا واجب ہے کیونکہ وہ بقدر کفایتِ وضو پانی پر قادر ہوگیا اور اس کے غسل کا تیمم باقی ہے جب تک بقدر کفایتِ غسل پانی پر اقدر نہ ہو، اسی طرح اگر غسل کے تیمم سے پہلے کوئی بات وضو توڑنے والی بھی پائی گئی اور پھر غسل کا تیمم کیا تو یہی تیمم وضو و غسل دونوں کے لئے کافی ہے۔ ۲۔ اگر کسی جنبی نے غسل کیا اور اس کا کچھ حصۂ بدن خشک رہ گیا اور پانی ختم ہوچکا تو جنابت اس کی باقی رہ گئی ہے اس کے واسطے تیمم کرے پھر اگر حدیث ہو جائے تو وضو کے واسطے تیمم کرے پھر اگر پانی ملے تو خشک رہے ہوئے حصہ کو دھولے اس کو پورا غسل کرنا ضروری نہیں اور وضو کرکے نماز پڑھے۔ پانی ملنے پر اس مسئلہ کی پانچ صورتیں بنتی ہیں: اول اگر وہ پانی اس قدر ہے کہ خشک حصہ اور وضو دونوں ہی کے لئے کافی ہے تو غسل و وضو دونوں کا تیمم باطل ہو جائے گا پس خشک حصہ کو دھولے اور وضو کرے۔ دوم یہ کہ