عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہوگا اور اس جانور کے مرنے کی پوری قیمت بھی واجب ہوگی۳ ؎ اور اگر کفارہ ادا کرنے اور حلال ہونے یعنی احرام سے باہر ہوجانے کے بعدوہ جانور مرا تو کچھ واجب نہ ہوگا ۴؎ اور اگر اس نے اس جانور کی قیمت زیادہ ہونے سے پہلے فدیہ یعنی کفارہ اد کردیا تھا تو زیادتی کا ضامن نہیں ہوگا اور اگر وہ ابھی تک احرام کی حالت میں ہے تو فدیہ دینے کے بعد بھی زیادتی کا ضامن ہوگا اور اگر شکار اس کے قبضہ میں ہے اور اس کے زخمی کرنے کا فدیہ دیدیا پھر وہ مرگیا تو نئے سرے سے اس کی قیمت کا ضامن ہوگا جو مرنے کے دن تھی ۵؎ (۶) اگر اس جانور کی اون کاٹ لی یا اس کا دودھ نکال لیا تو اس پر ان دونوں چیزوں کا قیمت واجب ہوگی ۶؎ یعنی اگر کسی شکار کا دودھ نکا ل لیا تو دودھ نکالنے سے جو کمی اس میں واقع ہوگی وہ اس پر واجب ہوگی ۶؎ کیونکہ دودھ شکار کا ایک جزو ہے پس جس طرح اس کے کسی جزوبدن کے ضائع کرنے سے ضمان واجب ہوگا اسی طرح دودھ نکالنے سے بھی واجب ہوگا ۷؎ شکار کی خرید وفروخت ودیگر تصرفات : ( ۱)جاننا چاہئے کہ مُحرم شکار کو خریدنے سے اور ہبہ ووصیت کے ذریعہ شکار کا مالک نہیں ہوتا پس اگر اس نے خریدنے کے بعداس پر قبضہ کرلیا تو وہ اس کے ضمان میں داخل ہوگیا ( یعنی اس کا ضامن ہوگیا ) اوراگر وہ اس کے ہاتھ میں ہلاک ہوگیا تو اﷲ تعالیٰ کے حق کے طور پر اس پر اس کی جزا واجب ہوگی اور اس کے مالک کے طور پر اس کی قیمت بھی اس پر واجب ہوگی ، پھر اگر اس نے وہ شکار اس شخص کو واپس کردیا تو اس سے قیمت ساقط ہوجائے گی اور جزا ساقط نہیں ہوگی لیکن اس جانور کو آزاد کردینے سے جزا بھی ساقط ہوجائے گی اور میراث کے ذریعہ سے مالک ہونے میں اختلاف ہے ، طرابلسی میں ہے کہ