عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۲) اگر تملیک اور اباحت دونوں کو جمع کیا (یعنی ایک وقت پیٹ بھر کر کھلایا اور ایک وقت کی قیمت یا چوتھائی صاع گندم دے دیا) مثلاً صبح کو کھانا کھلایا اور شام کے کھانے کی قیمت دے دی یا اس کے برعکس کیا یعنی شام کا کھانا کھلایا اور صبح کے کھانے کی قیمت دے دی یا دوسرے وقت کے لئے منصوص علیہ جنس کا نصف یعنی گندم کا چوتھا ئی صاع یا کھجور کا نصف صاع دے دیا تو بلا خلاف جائز ہے اور اسی طرح اگر ہر مسکین کو نصف صاع جو یا کھجور اور چوتھائی صاع گندم دے دی تو اصل کی روایت کے مطابق جائز ہے۔ ۳؎ (۳) کھانے کی تملیک و اباحت میں صورۃً مساکین کی تعداد شرط نہیں بلکہ معنی متعدد ہونا چاہئیں (یعنی مسکین کا مختلف ہونا شرط نہیں ہے) پس اگر مثلاً ایک ہی مسکین کو چھ مسکینوں کا کھانا چھ روز میں دیا یعنی ایک ہی مسکین کو ہر روز نصف صاع گندم یا ایک صاع دوسری منصوص جنس دیتا رہا، یا چھ روز تک روزانہ صبح و شام ایک ہی مسکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا تا رہا تو ہمارے نزدیک بلاخلاف جائز ہے لیکن اگر ایک دن میں ایک ہی دفعہ یا متعدد دفعہ چھ مسکینوں کو کھانا یعنی تین صاع گندم یا چھ صاع جو یا کھجور دیا تو اس کے بارے میں ہمارے آئمہ سے کوئی روایت نہیں ہے اور مشائخ کا اس میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ جائز ہے اور اکثر مشائخ کے نزدیک صرف ایک ہی مسکین کا صدقہ ادا ہوگا (اور باقی نفلی صدقہ ہوجائے گا) اور اسی پر فتویٰ ہے لیکن اگر اس کو اباحت کے طور پر کھلا دیا تو بلاخلاف جائز نہیں ہے ۴؎ اور اسی طرح اگر تمام صدقہ دو مسکینوں کو دے دیا تو صرف دو ہی مسکینوں کا ادا ہوگا اور باقی واجب میں شمار نہیں ہوگا بلکہ نفلی صدقہ ہوجائے گا۔ ۱؎ شرائطِ جوازِ روزہ : جنایت کی جزاء میں اگر روزے رکھے جائیں تو ان کے جائز ہونے کی پانچ شرطیں ہیں : (۱) نیت کرنا، نیت کے