عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اﷲ ﷺ جب کسی منزل پر پہنچتے تو اس منزل سے کوچ کرتے وقت دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے ، حاکم نے اس کو روایت کیا ہے اور اس کی تصحیح کی ہے، اور جب کسی منزل پر اترے اس وقت بھی دو رکعت نماز نفل پڑھنی چاہئے تاکہ اس کا اس منزل پر آنا اور اس منزل سے کوچ کرنا نماز کے ساتھ شروع اور ختم ہو ۱۳؎ (۷) جب کسی منزل پر پہنچے تو احتیاط یہ ہے کہ چلنے پھرنے میں بھی تنہا نہ جائے تاوقتیکہ امن و اطمینان کا حال معلوم نہ ہو کیونکہ اجنبی جگہ کا حال معلوم نہیں ہوتااور منزل پر احتیا ط یہ ہے کہ رفقا میں سے باری باری سے ایک یا دو آدمی سامان کی حفاظت کرتے رہیں اگر رات کے وقت کسی جگہ منزل کریں تو پہرہ داری کے اوقات مرتب کرلئے جائیں نمبر وار ایک دو آدمی جاگتے رہیں کہ یہ جان ومال کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ حضور اقدس ﷺ کی عادتِ شریفہ تھی کہ منزل پر پہنچ کر طے فرما دیا کرتے تھے کہ حفاظت کا کام کس کے سپر د ہے ۱؎ مسنون طریقہ پر مفرد حج کی پوری کیفیت احرام باندھنا : پاکستا ن کے حاجی بندرگاہ کراچی سے اور بنگلہ دیش کے حاجی بندرگاہ چاٹگام سے بحری جہاز میں سوار ہوتے ہیں اور ہندوستان کے حاجی مبئی کی بندرگا ہ سے سوار ہوتے ہیں۔ بحری جہاز کراچی سے روانہ ہوکر آج کل ساتویں روز جدہ پہنچ جاتا ہے، کراچی سے روانہ ہونے کے بعد یلملم تک عام ہدایات کے علاوہ حج کے متعلق کوئی ضروری حکم قابلِ بیان نہیں ہے، البتہ یلملم سے احکامِ حج شروع ہوجاتے ہیں ،یلملم ایک پہاڑ کا نام ہے جس کو آج کل جبلِ سعدیہ کہتے ہیں ، یہ مکہ