عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ومحرمات ومکروہات بھی طوافِ زیارت و طوافِ مطلق کی مانند ہیں اور ان سب کی تفصیل طواف مطلق کے بیان میں گزرچکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں (مؤلف) حج کے اقسام اور اُن کے مراتب حج تین قسم کا ہوتا ہے : افراد، تمتع، قِران(مؤلف) آفاقی کے حق میں قِران، تمتع وافراد دونوں سے افضل ہے اور تمتع اس کے حق میں افراد سے افضل ہے اور یہ ظاہر الروایت میں مذکور ہے ۱؎ پس قِران سب سے افضل ہے پھر تمتع پھر افراد کادرجہ ہے ۲؎ یعنی پھر مفرد حج مفرد عمرہ سے افضل ہے اور قران کا تمتع سے تمتع کاافراد سے افضل ہونے کا حکم تمتع کی دونوں قسموں کو شامل ہے یعنی خواہ وہ اپنے ساتھ ہدی لے گیا ہو یا نہ لے گیا ہو ۳؎ پس مذکورہ بالاعبارت میں دوباتوں کا بیان ہے : اوّل یہ کہ حج کی تین قسمیں جائز ہیں اور فقہائے امت کا ان تینوں کے جواز پر اجماع ہے اور یہ بات قرآن مجید اور سنت یعنی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ قرآن مجید سے تینوں قسموں کے جواز کا ثبوت یہ ہے :اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ السْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًاo ‘‘(سورۃ آل عمران ع ۱۰) (ترجمہ: اور اﷲ تعالیٰ کا لوگوں پرحق ہے کہ جو شخص زادِ راہ کی استطاعت رکھتا ہو اس پر بیت اﷲ شریف کا حج کرنا فرض ہے) اس آیتِ مبارکہ سے حجِ افراد ثابت ہوتا ہے ، اوردوسری جگہ ارشادہے : ’’وَاَتِمُّوْاالْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ‘‘(سورۃ بقرہ ع ۲۴) (اور حج و عمرہ کو اﷲ تعالیٰ کے واسطے پورا پورا ادا کیا کرو) یہ آیتِ مبارکہ قِران کے جواز کی دلیل ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ الآیہ ‘‘(سورہ بقرہ ع ۲۴) پس جو شخص حج کو عمرہ کے ساتھ ملاکر منتفع ہوا(یعنی تمتع کیا) تو جو کچھ قربانی میسر ہو ذبح کرے )۔اس میں تمتع کے جواز کا ثبوت ہے اور احادیث سے ان تینوں کے جواز کا ثبوت اس طرح پر ہے کہ صحیحین