عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نزدیک جائز ہے اور بعض فقہا نے کہا ہے کہ امام کے حق میں جماعت کا ہونا بالکل شرط نہیںہے ۱؎۔ (۳) دونوں نمازوں میں بادشاہِ وقت (خلیفہ ) یا اس کے نائب کا امام بننا خواہ وہ مقیم ہو یا مسافر ، پس اس کے علاوہ کسی اور امام کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے ۲ ؎ پس اگر کسی دوسرے شخص نے امامِ اکبر (خلیفہ وقت ) یا اس کے نائب کی اجازت کے بغیر امامت کی اور ان دونوں نمازوں کو جمع کیا تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ان کی عصر کی نماز جائز نہیں ہوگی کیونکہ یہاں امامِ وقت (بادشاہ ) یا اس کے نائب کے علاوہ کسی اور شخص کی امامت میں جماعت کرنے کا حکم اکیلا نماز پڑھنے والے کی طرح ہے (کہ وہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرے ) صاحبین کے نزدیک اس کو جمع کرنا جائز ہے ۳؎ پس مختلف فیہ شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ظہر و عصر دونوں نمازوں کو جمع کرنے کے لئے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک دونوں نمازوں کی امامت امام وقت ( خلیفہ ) یا اس کا نائب کرے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے ظہر کی نماز امام کے ساتھ پڑھی اور عصر کی نماز امام کے بغیر پڑھی یا اس کے بر عکس ظہر کی نماز امام کے بغیر پڑھی اور عصر کی نماز امام کے ساتھ پڑھی تو اس کی عصر کی نماز عصر کے وقت سے پہلے جائز نہیں ہے اس کو عصر کے وقت میں پڑھنا چاہئے ۴ ؎ ( جیسا کہ اوپر شرط جماعت کے بیان میں بھی یہ صورت مذکور ہے ، مئولف ) اور اسی طرح اگر کسی نے ظہر کی نماز جماعت سے پڑھی لیکن امام وقت یا اس کے نائب کی علاوہ کسی اور شخص کے پیچھے پڑھی اور عصر کی نماز امام وقت کے پیچھے پڑھی تو اس کی عصر کی نماز امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جائز نہیں اور صاحبین کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے اور امام ابو حنیفہ کا قول ہی صیحح ہے ۵ ؎ اور امام کے پیچھے پوری