عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جائز نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ احرام کا جمع بین الصلواتین کے وقت پر مقدم کرنا یعنی احرام کا زوال سے پہلے ہونا شرط ہے یہ قول ضعیف ہے اور صحیح یہ ہے کہ حصول مقصود کے لئے احرام کا جمع بین الصلوٰتین سے مقدم ہونا کافی ہے ۸؎ ۔ (۲)دونوں نمازوں کو جماعت سے ادا کرنا اور یہ بھی امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک شرط ہے صاحبین کا اس میں اختلاف ہے لہٰذا یہ شرط بھی مختلف فیہ ہے پس اگر ان دونوں نمازوں کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک نماز کو اکیلے پڑھا مثلاً ظہر کی نماز اکیلے پڑ ھی اور عصر کی نماز جماعت سے پڑھی یا ظہر کی نماز جماعت سے پڑھی اور عصر کی نمازاکیلے پڑھی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲکے نزدیک عصر کی نماز اپنے وقت سے پہلے جائز نہیں ہوگی اورصاحبین کے نزدیک جائز ہو جائے گی ۹ ؎ اور صحیح امام ابو حنیفہ ؒ کا قول ہے، امام کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے جماعت کا ہو نا شرط لازم ہے پس کسی حالت میں یہ شرط ساقط نہیں ہوگی اور امام کے لئے شرط غیر لازم ہے پس ضرورت کے وقت ساقط ہو جائے گی ۱۰؎ یہی وجہ ہے کہ اگر جماعت شروع ہو جانے کے بعد تمام مقتدی چلے جائیں اور امام اکیلارہ جائے پھر وہ اکیلا دونوں نمازیں اکٹھی پڑھے تو اس کے لئے دونوں نمازوں کو جمع کرنا بالا تفاق جائز ہے اور یہی حکم اکثر فقہا کے نزدیک جماعت شروع ہونے سے پہلے لوگوں کے چلے جانے کی صورت میں بھی ہے جبکہ وہ کسی دوسرے شخص کو اپنا مقتدی بنانے پر قادر نہ ہو یعنی اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ہی لوگ چلے جائیں اور اما م اکیلا رہ جائے تو اس میں اختلاف ہے بعض فقہا نے کہا ہے کہ صاحبین کے نزدیک اس کے لئے جمع بین الصلوٰتین جائز ہے اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جائز نہیں اور بعض فقہا نے کہا ہے کہ ان تینوں اماموں کے