عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس طرح ڈال لینا جائز ہے کہ آستین اپنے کندھوں میں داخل نہ کرے، خواہ وہ قبا وغیرہ مقلوب ہو (یعنی اندر کا حصہ باہر کیا ہوا ہو) یا معکوس ہو (یعنی اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کیا ہوا ہو اور قبا وغیرہ کا لیٹنے کی حالت میں اپنے اوپر ڈال لینا جائز ہے کیونکہ جب وہ کھڑا ہوگا تو وہ عادت کے مطابق پہننے والا شمار نہیں ہوگا اور اپنے رخسار اور سر کو تکیہ پر رکھنا بلا خلاف جائز ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ۱۳؎ (۲۰)اپنا یا کسی دوسرے کا ہاتھ کپڑے کے بغیر اپنے سر یا ناک پررکھنا بالاتفاق جائز ہے کیونکہ اس کو سر پر پہننے والا یا ناک کو ڈھانپنے والا نہیں کہا جائے گا ۔۱۴؎ (۲۱)جو ڈاڑھی ٹھوڑی سے نیچے لٹکی ہوئی ہواس کو کپڑے سے ڈھانپنا جائز ہے کیونکہ وہ چہرہ میں داخل نہیں ہے اور اپنے دونوں کانوں کو ڈھانپنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ دونوں چہرے اور سر میں شامل نہیں ہیں بلکہ مستقل عضو ہیں اگر چہ یہ دونوں ہمارے نزدیک مسح کے حکم میں سر میں شمار کئے جاتے ہیں اور بعض سلف کے نزدیک دونوں کان چہرے میں شمار کئے جاتے ہیں اور اپنی گُدی پر کپڑا ڈالنا بھی جائز ہے اسلئے کہ یہ بلا خلاف سر کے علاوہ ایک علیحدہ عضو ہے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو رومال وغیرہ سے ڈھانپنا جائز ہے ۱؎ لیکن دستانوں کا پہننا مردوں کے لئے ممنوع ہے اور عورتوں کے لے منع نہیں ہے مگر عورتوں کو بھی ان کا نہ پہننا اولیٰ ہے جیساکہ محرماتِ احرام میں بیان ہوچکا ہے اگر دونوں ہاتھوں پر سلا ہوا کپڑا یا چمڑا وغیرہ پہنے گا تو یہ احرام کی حالت میں مردوں کے لئے ائمہ اربعہ کے نزدیک حرام ہے ۲؎ سر اور چہرے کے علاوہ باقی تمام بدن کو ڈھانپنا جائز ہے اور سر وچہرے کا ڈھانپنا منع ہے خواہ ان کا تھوڑا حصہ ڈھانپا جائے یا تمام جیساکہ محظوراتِ احرام میں گزرچکا ہے ۳؎