عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۱۸) خزّاور بزّاور ہروی ومروی وقطن (روئی ) وکتان (ٹاسا) اور دھاری دار و رنگ دار چادر وغیرہ جمیع اقسام کا کپڑا پہننا جائز ہے جبکہ وہ سلا ہوا نہ ہو اور ریشمی نہ ہو اور خوشبو سے رنگا ہو ا نہ ہو ۷؎ پس خزّ وصوف (اون) وکتّان اور دھاری دار یا رنگین چادر وغیرہ کا پہننا مکروہ نہیں ہے جبکہ سِلا ہوا نہ ہو ۸؎ کیونکہ اس میںکوئی زیادہ زینت نہیں ہے اور محرم کو اس سے منع نہیں کیا گیا ہے ۹؎ اور یہ اس وقت ہے جبکہ وہ کپڑا ریشم کا نہ ہو ۱۰؎ اور خوشبو کے ساتھ نہ رنگا گیا ہو(مؤلف) اور رنگ دار کپڑا سرخ یا زرد رنگ کا نہ ہو کیونکہ ہمارے مذہب میں اصح قول کی بِنا پر سر وزرد کپڑا مردوں کے لئے پہننا احرام والے وبغیر احرام والے سب کے لئے مکروہ ہے ۱۱؎ خزّ ایک قسم کا سوتی کپڑا ہوتا ہے اور ہروی ومروی وکتّان وغیرہ کپڑے کی قسمیں ہیں ۱۲؎ (۱۹) قمیص (یا شلوار یا صافہ) کو چادر کی طرح اوڑھنا یا تہبند کی طرح پہننا یااس کے کچھ حصے کو تہبند کی طرح باندھ کر باقی حصہ کودونوں کندھوں یا ایک کندھے پر ڈال لینا جائز ہے اور یہ جو بعض جاہل لوگ ایک ہاتھ قمیص کی آستین سے باہر نکال لیتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں (یعنی اس طرح پہننا جائز نہیں ) اس لئے کہ اس پر سلے ہوئے کپڑے کا پہننا صادق آتا ہے، اور قمیص اور جُبّہ کو تہبندکی طرح باندھنا اور لیٹنے کی حالت میں اس کو اپنے اوپر لپیٹنا بالاتفاق جائز ہے، شلوار کو تہبند کی طرح پہننا اور عمامہ کو تہبندکی طرح باندھنا یعنی اس کو بغیر گرہ دیئے ہوئے باندھنا جائز ہے کیونکہ اس صورت میں اس پر صافہ پہننے کا اطلاق نہیں ہوگا اور اس کا عادت کے مطابق پہننا ممنوع ہے اپنی چادر کے دونوں سروں کو اپنے تہبند میں اٹکا لینا جائز ہے بلکہ نماز کاارادہ کرتے وقت ایسا کرنا مستحب ہے کیونکہ اسبال یعنی کپڑے کا لٹکانا اس وقت منع ہے اور قبا ، عبا، پوستین اور لبادہ کا اپنے اوپر