عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۱۵)اگر فصد لینا یا پچھنے لگوانا بال دُور کئے بغیر ممکن ہوتو جائز ومباح ہے ۱؎ اگرچہ ہاتھ کو (یعنی فصد وپچھنے لگنے والی جگہ کو ) پٹی باندھنا پڑے کیونکہ پہلے گزرچکا ہے کہ سر اور چہرہ کے علاوہ بدن کے کسی حصہ پر پٹی باندھنا عذر کے ساتھ مکروہ نہیں ہے البتہ اگر بغیر عذر کے ہو تو مکروہ ہے ۱۲؎ (۱۶) پڑوال (آنکھ کے اندر اُگے ہوئے بال) اکھاڑنا اور بدن کی رگوں میں سے کسی رگ کا کاٹنا، ختنہ کرانا اور دُنبل(پھوڑا و آبلہ وغیرہ) کو پھوڑنا اور زخم میں چیزادینا، ٹوٹے ہوئے عضو پر پٹی وجبیرہ (کھپچیاں ) باندھنا اورا سی طرح اس کو ڈھانپناجبکہ اس کے سر اور چہرہ کے علاوہ کسی جگہ پر ہو، یہ سب امور جائز و مباح ہیں پس احرام والے کو پچھنے لگوانے، فصد کرانے، دانت نکلوانے ، ٹوٹے عضو پر پٹی و کھپچی باندھنے اور ختنہ کرانے میں مضائقہ نہیں ہے ۳؎ (۱۷)اپنے سر اور ڈاڑھی اور تمام بدن کو نرمی سے یعنی اپنی انگلیوں کے اندرونی حصہ سے اس طرح کھجلانا کہ بال نہ ٹوٹے (اور جُوں بھی نہ گرے، مؤلف) اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ بال ٹوٹنے یا جوں کے گرنے کا اندیشہ ہو لیکن اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو زور سے کُھجلی کرنا بھی جائز ہے اگرچہ خون نکل آئے ۴؎ کیونکہ محرم کو اپنے بدن سے خون نکالنا ممنوع نہیں ہے اسی لئے فصد کرانا وپچھنے لگوانا جائز ہے ۵؎ پس احرام والے کو چاہئے کہ اپنے سر میںکھجلی نہ کرے اور اگر کرے تو نرمی سے کرے تاکہ بال نہ جھڑے اور جُوں ہلاک نہ ہوجائے کیونکہ یہ ممنوع ہے اور اگر کسی احرام والے کے سرپر بال نہ ہوں یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے لئے زور سے کھجلانے میں مضائقہ نہیں ہے ۶؎