عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۱۳۔ اگر کسی باوضو شخص نے کھانا کھانے کے لئے یا کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے تو پانی مستعمل ہوگیا (بحروع ودروش) کیونکہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا سنت ہے اس لئے اس کے ساتھ قربت یعنی ثواب قائم ہوا اور اس سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس نے سنت ادا کرنے کی نیت سے دھوئے ہوں اور اگر یہ نیت نہیں کی تو پانی مستعمل نہیں ہوگا (بحر) اور اس بناء پر ہر سنت کے ادا کرنے مثلاً منہ اور ناک وغیرہ کے دھونے میں بھی نیت کا پایا جانا شرط ہونا چائیے حتیٰ کہ اگر کسی غیر جنبی شخص نے تقرب حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ صرف صفائی کے قصد سے منہ اور ناک وغیرہ کو دھویا تو وہ پانی مستعمل نہیں ہوگا۔ (ش ومنحہ) ۱۴۔ حیض والی عورت کے و ضو کرنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا کیونکہ اس کے لئے مسحتب ہے کہ نمازکیلئے وضو کرے (فتح وبحر) اور جائے نماز پر بیٹھ کر تسبیح وتہلیل کرے تاکہ نماز کی عادت نہ چھوٹے (غایۃ الا وطار) او ریہ بات پوشید نہیں ہے کہ وہ پانی اس وقت مستعمل ہوگا جبکہ اس نے مستحب کو ادا کرنے کی نیت سے وضو کیا ہو۔ (بحر) ۱۵۔ اگر کسی نے وضو میں اعضائے وضو کو تین تین بار دھویا پھر اس پر زیادہ کیا اگر زیادہ کرنے میں نئے سرے سے وضو کا ارادہ کیاتو پانی مستعمل ہوجائے گا اور اگر پہلے وضو پر زیادہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے کہا کہ مستعمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ زیادتی نص سے تجاوز کرنا ہے او ربعض نے کہاکہ مستعمل ہوجائے گا اس لئے کہ زیادہ کرناا یسا ہے جیساکہ وضو پر وضو کرنا پس یہ قربت یعنی ثواب ہے (بدائع وبحرودروش) بحر الرائق میں مذکور ہے کہ اس میں کلام سے اور تثلیثِ غسل کی بحث سنن وضو میں گزر چکی ہے جس کا مقتضی ٰ یہ ہے کہ وضو پر وضو کرنا اس وقت قربت (ثواب)