عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
چوہے کے حکم میں ہیں، واللہ علم بالصواب مؤلف) اور اگر ان دونوں کنوئوں میں سے کسی ایک کنوئیں سے بیس ڈول اور دوسرے کنوئیںسے دس ڈول نکال کر تیسرے میں ڈالے گئے تو تیس ڈول نکالے جائیں، اور امام ابوحفصؒ کی روایت کے مطابق مناسب یہ ہے کہ پہلے اتنے ڈول نکالے جائیں جو پہلے کنوئیں سے اس میں ڈالے گئے ہیں پھر اتنے ڈول نکالے جائیں جواس میں سے نکالنے واجب تھے اور اگردو کنوؤں میں سے ایک سے بیس ڈول نکالنا اور دوسرے سے چالیس ڈول نکالنا واجب ہو اور ان دونوں کنوؤں سے قدر واجب پانی نکال کرتیسرے پاک کنوئیں میں ڈال دیا تو اس تیسرے کنوئیں سے مذکورہ بالا اصول کے مطابق چالیس ڈول نکالنا واجب ہوگا اور اگر ایک کنوئیں سے چالیس ڈول نکالنا واجب تھے اس میں سے ایک ڈول نکال کر اس کنوئیں میں ڈال دیا جس میں سے بیس ڈول نکالنا واجب تھے اب اس سے بھی چالیس ڈول نکالے جائیں گے اس لئے کہ اگر وہ ڈول کسی پاک کنوئیں میں ڈال دیا جاتا تو اس سے بھی چالیس ہی ڈول نکالنا واجب ہوتا پس اسی طرح یہاں بھی ہے اور یہ سب امام محمدؒ کے قول کے مطابق ہے، اور امام ابویوسفؒ سے اس بارے میں دوروایتیں ہیں ایک روایت کے مطابق اس کاتمام پانی نکالا جائے گا اور ایک روایت کے مطابق بقدر واجب، اور جس قدر اس میں دوسرے کنوئیں سے پانی ڈالا گیا ہے دونوں کا مجموعہ نکال جائے گا (بحر وفتح وبدائع وع) اگر چوہا کسی مٹکے میں گر کر مر گیا تو اس مٹکے کا تما م پانی گرادیا جائے اور اگر اس مٹکے کاپانی کسی پاک کنوئیں میں ڈال دیا گیا تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک جس قدر ناپاک پانی اس میں ڈالاگیا ہے وہ اور بیس ڈول نکال دئیے جائیں اور امام محمدؒ کے نزدیک اگرمٹکے کا پانی بیس ڈول یا اس سے زیادہ ہے تو کنوئیں سے اسی قدر پانی نکالاجائے اور اگر مٹکے میں بیس ڈول سے کم پانی ہے تو اس کنوئیں سے بیس