عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کے متعلق فقہامیں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ رسول ﷺ سے ایسا کرنا مروی ہے لیکن اس میںمبالغہ نہ کرے بلکہ اپنے اعضا وضو پر اس کا اثر یعنی قدرے تری باقی رہنے دے (ش وط ملحضاً) اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اعضائے وضو کو خشک کرنے کی ضرورت نہ ہو اور اگر اس کی ضرورت ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کے بلا کراہت جائز ہونے میںکوئی اختلاف نہیں ہوگا بلکہ اس کے مستحب یا حسب ضرورت واجب ہونے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہوگااور یہ حکم زندہ شخص کے بارے میں ہے لیکن میت کے بارے میںہمارے مشائخ کے کلام کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس کوکپڑے سے پونچھنا مستحب ہے تاکہ اس کے کفن کے کپڑے تر ہوکر متغیرنہ ہوجائیں (ط) (۴۰) جس کپڑے سے مقام استنجا کو پونچھا ہو اس کپڑے سے اعضائے وضو کو نہ پونچھے (فتح وبحروش وع) کیونکہ یہ مکروہ ہے جیسا کہ مکروہات میں مذکور ہے (مولف) (۴۱) اپنے ہاتھوں کو نہ جھٹکنا (دروع) (۴۲) وضو سے فارغ ہونے کے بعد سورۃ القدر کوایک یا دو یا تین بار پڑھنا (کبیری ودروم) (۴۳) اگر نماز کے لئے مکروہ وقت نہ ہوتو وضو کے بعد دو رکعت نفل تحیتہ الوضو پڑھنا (بحرودروفتح وع) (۴۴) وضو کے لئے ایک مُدّ یعنی تقریباً ایک سیر پانی سے کم نہ ہو (ع وش) (۴۵) جو پانی دھوپ میں گرم ہوگیا ہو اس سے وضو نہ کرنا (ش وم) کیونکہ اس سے برص کی بیماری ہوجاتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ارشاد فرمایا (م وط) (۴۶) مسجد میں اپنی وضو کے لئے کسی برتن کو مخصوص نہ کرلینا (ش وم وط) (۴۷) وضو کرنے کے عام برتن یاعام جگہ سے وضو کرنا (ش وط) (۴۸) (اپنے گھر پر) وضو سے فارغ ہونے کے بعد دوسری نماز کے وضو کے لئے اپنے برتن میںپانی بھر کر رکھنا (ع وفتح وبحروش وط) (۴۹) نمازکے وقت سے پہلے وضو کرنا (م