عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اشارہ کرنا (ط) (۳۷) اگر روزہ دار نہ ہو تو وضو سے فارغ ہونے کے بعد وضو کا بچا ہوا سارا یاکچھ پانی آب زمزم کی طرح کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر پینا (م وبدائع ودروش ملتقطاً) پس ان دونوں پانیوں کے علاوہ اور پانی (بلاعذر) کھڑے ہو کر پینا مکروہ تنزیہی ہے (در) فتاویٰ ہندیہ (عالمگیری) میں ہے کہ جو پانی سے وضو بچے اس میں سے ایک قطرہ (تھوڑا سا پانی) قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو کر پی لے۔ (ع و ط) اس کے بعد یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اشْفِنِیْ بِشِفَآئِکَ وَدَاوِنِیْ بِدَوَآئِکَ وَاعْصِمْنِیْ مِنَ الوَھْلِ وَالْاَ مْرَاضِ وَالْاَوْجَاعِO (ش و ط و کبیری) حلیہ میں ہے کہ اس دعاکا ماثورہ ہونا معلوم نہیں ہوسکا اوریہ حسن ہے ۱ھ (ش) ظاہر یہ ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی پینا اس وقت مستحب ہے جبکہ لوٹا وغیرہ چھوٹے برتن سے وضو کرے اور اگر حوض وغیرہ سے وضو کرے تو یہ نحور طلب ہے کہ اس میں سے بھی پینا چاہئے یا نہیں اور ذخیرہ میں فتاویٰ ابو الیث سے منقول ہے کہ جو پانی پینے کے لئے رکھا گیا ہو تو جب تک وہ بہت زیادہ نہ ہو اس کے وضو نہ کرے اور جو پانی وضو کے لئے رکھا گیا ہے اس میں سے پی لینا جائز ہے پھر ا س میں ابوالفضل سے نقل کیا ہے کہ وہ اس کے برعکس کہتے تھے پس اس بنا پر کیا اس کو وضو کا بچا ہوا پانی پینا جائز ہے کیونکہ یہ وضو کے توابع میں سے ہے یا جائز ہ نہیں ہے اور ظاہر پہلا (جواز کا) قول ہے ، سوچ لیجئے (ش) (۳۸) وضو کے بعد یااس کے درمیان میں یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلنِیْ مِن َالتَّوَابِیْنَ وَجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ وَاجْعَلنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُونَ ـ (دروش و کبیری) یا وضو کے بعد یہ دعا پڑھے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ وَاَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (ع) (دعائوں کا بیان الگ درج ہے) (۳۹) اعضائے وضو کو رومال (اور تولئے وغیرہ) سے پونچھنا (در) اس