عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ایڑیوں اور دونوں تلووں کے اندر اور انگوٹھی کے نیچے کی جگہ کی حفاظت کرنا (دروفتح وبحر ملتقطاً) یعنی وضو کے اندر ان مقامات میں پانی پہنچانا اور ان سے غافل نہ رہنا مستحب ہے اس لئے کہ ان مقامات کے اونچا نیچا ہونے کے باعث ان میں کبھی تھوڑی خشکی باقی رہ جاتی ہے (غایۃ الاوطار) (۳۰) منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں پائوں کے دھونے کی جو حدود مقررہیں (یعنی جس قدر دھونا فرض یاواجب ہے) ان سے کچھ اور زیادہ کرکے دھونا تاکہ ان مقررہ حدود تک دھل جانے کا یقین ہوجائے (فتح وبحروع وکبیری) (۳۱) چہرہ اورہاتھ پائوں کو حدود معینہ سے زیاہ دھونا تاکہ قیامت کے روز وضو کے آثار سے ان اعضا کی روشنی اس جگہ تک بڑھے (دروش وفتح وبحر) جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ طحطاوی نے علی زادہ کی شرح شرعہ سے نقل کیا ہے کہ دونو ںہاتھوں کانصف بازوتک اور دونوں پائوں کا نصف پنڈلی تک دھونا مستحب ہے (غایۃ الاوطار) (۳۲) دونوں بھوئوں اور مونچھوں کے نیچے پانی پہنچانا (بحروش) (۳۳) اپنے دونوں پائوں کو اپنے بائیں ہاتھ سے دھونا (در) یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے دونوں پائوں پر پانی ڈالنا اور ان دونوں کو بائیں ہاتھ سے دھونا (ش) اورپائوں دھونے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پائوں دھوتے وقت برتن کو دائیں ہاتھ میں پکڑے اور دائیں پائوں پر اوپر کی طرف سے پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے اس کو ملے اسی طرح تین بار اس کو دھوئے پھر بائیں پائوں پر اوپر کی طرف سے پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ملے اور اس کو بھی اسی طرح تین بار دھوئے (ع) (۳۴) وضو میں جلدی نہ کرے اور دھونے اور خلال کرنے اور ملنے کو پورا پورا ادا کرے (ع و غایۃ الاوطار) (۳۵) وضو کے بعد میانی (شلواروغیرہ کی رومالی) پر پانی چھڑک لینا (ش) (۳۶) وضو کے بعد قبلہ رو کھڑے ہوکر کلمۂ شہادت پڑھنا (م) اور اس وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر اپنی انگشت شہادت سے