عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ﷺ نے نماز ظہر کی چار رکعتوں میں سے پہلی دورکعتیں بیت المقدس کی طرف ادا فرمائیں اور آخری دورکعتیں بیت اﷲ ( خانہ کعبہ ) کی طرف ادافرمائیں، عبادہ بن بشر ؓ رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعدوہاں سے نکلے اور بنی حارثہ میں انصار کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو عصر کی نماز کے رکوع میں تھے عبادہ بن بشر نے کہا میں اﷲ تعالیٰ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ بیت اﷲ کی طرف نماز پڑھی ہے پس وہ لوگ بھی ( نماز میں بیت اﷲ کی طر ف ) گھوم گئے ۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ منورہ کے سولہ ماہ اور چند دن بعد غزؤہ بدرسے دوماہ قبل پیش آیا۔بعض کہتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا واقعہ مسجد قبا میں ہوا تھا لیکن اصح یہ ہے کہ مسجد القبلتین میں پیش آیا تھا ۵؎ ۔ روایت مذکورہ بالا سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے زمانہ میں بھی یہ مسجد تعمیر شدہ اور چھت والی تھی اسلئے کہ میزاب چھت والی عمارتوں ہی میں ہوتا ہے ۶؎۔ اور آپ کے زمانہ مبارک میں غالبا ً یہ مسجد پتھروں کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں اور پتوں وغیرہ کی بنی ہوئی تھی کیونکہ اس زمانہ میں زیادہ تر اسی قسم کے تعمیری سامان ہوتا تھا ، اس کی تجدید ات کے متعلق تواریخ سے اس کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ شاہین الجمالی نے ۸۹۳ھ میں ( اس کو تعمیر کرایا یا صرف ) اس کی مرمت کرائی اورچھت تبدیل کی گئی اور یہ احتمال ہے کہ سلطان سلیمان العثمانی کے زمانہ تک اس کی عمارت باقی تھی پس سلطان سلیمان العثمانی نے ۹۵۰ھ میں اس کو نئے سرے سے تعمیر کرایا اور وہ عمارت آج تک باقی ہے جیسا کہ سنگ مرمر پر منقوش ہے جو کہ اس دروازے کے اوپر لگا ہوا ہے جس سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں ۱؎ ۔ پھر ملک عبدالعزیز آل سعود نے اس کی عمارت کی تجدید کا حکم دیا اور اس کے صحن میں اضافہ کیا اور اس میں ایک مینارہ اذان کے لئے بنایا جس پر