عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ان کو نظر انداز کرتے ہیں خصوصاً قحط اور تنگی کے ایام میں ان کی امداد کی زیادہ ضرورت ہے پس نفع کے متعدی ہونے سے نیکیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۳؎ وقوفِ عرفات جمعہ کو واقع ہونے کی فضیلت : جمعہ کے روز وقوفِ عرفات کا واقع ہونا کسی اور دن کے وقوف عرفات سے ستر درجہ فضیلت رکھتا ہے ۴؎ اوراس روز وقوف کرنیوالا ہر شخص بلاواسطہ بخش دیا جاتاہے ۵؎ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تمام دنوں سے افضل عرفہ کادن ہے اور اگر وہ دن جمعہ کو واقع ہوجائے تو غیر جمعہ کے حج پر ستر درجہ فضیلت رکھتا ہے اس کور زین بن معاویہ ؓ نے تجرید الصحاح میں روایت کیا ہے ۶؎ اگرچہ بعض محدثین نے اس حدیث کی اسنا د کو ضعیف کہا ہے لیکن یوم جمعہ کے وقوف کو دوسرے دنوں کے وقوف پر چند وجوہ سے فضیلت ہے اولؔ اس لئے کہ روز جمعہ کے وقوف کی فضیلت مذکورہ بالا حدیث شریف میں آئی ہے ،دوسرےؔ اس لئے کہ رسول اﷲ ﷺ سے روایت ہے کہ اگر وقوفِ عرفہ جمعہ کے روز واقع ہوتو اﷲ تعالیٰ تمام اہل موقف کی مغفرت فرمادیتا ہے، تیسرےؔ اس لئے کہ جس طرح مکان کے شرف سے اعمال کو شرف حاصل ہوتا ہے اسی طرح زمانہ کے شرف سے بھی اعمال کو شرف حاصل ہوتا ہے اور جمعہ کا دن ہفتہ کے دنوں میں سب سے افضل دن ہے اس لئے اس روز کے اعمال یعنی وقوف وغیرہ بھی دوسرے دنوں کے اعمال یعنی وقوف وغیرہ سے افضل ہیں۔ چوتھےؔ اس لئے کہ جمعہ کے روز میں ایک ساعت ایسی ہوتی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے وہ ساعت دوسرے دنوں میں نہیں ہوتی۔پانچویںؔ رسول اﷲ ﷺ کا وقوف عرفات حجۃ الوداع میں جمعہ ہی کو واقع ہوا تھا اس لئے اس روز کے وقوف کو آنحضور ﷺ کے وقوف کے دن سے موافقت ہوجاتی ہے اور اس روز عرفات میں حجۃ الوداع