عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
میں آیت مبارکہ ’’ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ‘‘ نازل ہوئی۔ لیکن جاننا چاہئے کہ فرض ساقط ہونے کے اعتبار سے اس روز کے حج کو دوسرے دنوں کی حج پر کوئی فضیلت نہیں ہے ۷؎ ۔نیز جاننا چاہئے کہ حج کی تعریف میں علما نے اختلاف کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ قران حج اکبر ہے اور افراد حج اصغر ہے، بعض ہر حج کو حج اکبر کہتے ہیں اور عمرہ کو حج اصغر کہتے ہیں لیکن عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ اگر وقوف عرفہ جمعہ کے روز واقع ہوتو وہ حجِ اکبر ہے یہ کسی سے منقول نہیں ہے یہ عوام کی عرفی اصطلاح ہے۔ اسی طرح یومِ حجِ اکبر جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور ان کا حاصل ہی چار اقوا ل ہیں: اولؔ بعض نے کہا کہ اس سے مرادوہ دن ہے جس میں رسول اﷲ ﷺنے حج ادا فرمایا اور وہ مشہور ہے (یعنی جمعہ کاعرفہ) دوم ؔ بعض کے نزدیک مطلق عرفہ کا دن مراد ہے خواہ جمعہ کاہو یا کسی اور دن کاہو ۔ سوم ؔ قربانی کادوسرا دن یعنی ۱۱؍ذی الحجہ ہے ، چہارمؔ یہ کہ اس سے مراد منیٰ کے تمام دن ہیں۔ فی الحقیقت ان اقوال میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ جمعہ کا حج دوسرے دنوں کے حج کی بہ نسبت اکبر ہے اور حج ِ قران حج افراد کی بہ نسبت حج اکبر ہے اور مطلق حج عمرہ کی بنسبت اکبر ہے اور تمام ہی حج اکبر ہیں اور ان میں اپنے اپنے مقامِ انور کے اعتبار سے فرق ہے ،اسی طرح یوم حج ِ اکبر کے بارے میں کہا جائے گا کہ یوم عرفہ حج اکبر یعنی مطلق حج کے حاصل ہونے کا دن ہے اور قربانی کا دن حج اکبر کی تکمیل اور ایک حد تک احرام سے باہر ہونے کا دن ہے اور قربانی کا دوسرا دن جو عام طور پر طوافِ زیارت کادن ہے احرام سے پوری طرح باہر ہونے کادن ہے اور ایام منیٰ میں حج کے باقی افعال کی تکمیل ہوتی ہے اس لئے تمام ایام حج ہی یوم ِ حج اکبر کی تفسیر ہیں کیونکہ ان سب ہی میں ارکان وواجبات کی تکمیل ہوتی ہے واﷲ اعلم ۱؎ ۔ اور یہ جو حدیث شریف میں