عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
واجب ہوگی اس لئے کہ دراصل حرج ومشقت کودور کرنے کے لئے احرام سے باہر ہونا تواس کے لئے ضروری ہے اور اس کے علاوہ صورتوں میں لزوم کی صفت معتبر رہے گی ۴؎ (۹) اگر کسی ایک غیر معین نسک کا احرام باندھا نہ اس میں حج کی نیت کی نہ عمرہ کی پھروہ محصر ہوگیا تو وہ ایک ہدی ( حرم میں ) ذبح کرا کر احرا م سے باہر ہوجائے اور استحساناً اس پر عمرہ قضا کرنا واجب ہے اور قیاساً اس پر ایک حج اور ایک عمرہ کرنا واجب ہے اور اگر احرام کے وقت معین تو کیا تھا لیکن بعد میںاس کو بھول گیا (کہ حج کا احرام باندھا یا عمرہ کا ) پھراس کو روک دیا گیا تو وہ ایک ہی ہدی حرم میں بھیج کر اور ذبح کراکر حلا ل ہوجائے اور اس پر ایک حج اور ایک عمرہ قضا کرنا واجب ہوگا اوراسی طرح اگر اس کو روکا نہیں گیااور مکہ معظمہ یا عرفات پہنچ گیاتو اس پر حج اور عمرہ واجب ہے اور جو کچھ قارن پر تمام احکام میں واجب ہوتا ہے وہی اس پر بھی واجب ہوگا، اور اگر اس نے دو چیزوں کااحرام باندھا بعد میں وہ دونوں کو بھول گیا پھر وہ محصر ہوگیا تو وہ دو ہدی بھیجے اور استحساناً اس پر ایک حج اور دو عمرے واجب ہوں گے اس لئے کہ اس کا احرام قران کی طرف منتقل ہوجائے گا دو حج یا دو عمروں کی طرف منتقل نہیں ہوگا کیونکہ دو حج یا دو عمروں کو جمع کرنا مکروہ ہے یعنی ایک حج اور عمرہ کا حج فوت ہونے کی وجہ سے قضا کے طور پر واجب ہوگااور ایک عمرہ اس کے عمرہ کی قضاکیلئے واجب ہوگا ۵؎ (۱۰) اگر قارن نے اپنے حج اور عمرہ کے لئے طواف اور سعی کیا یعنی پہلے عمرہ کا طواف کیا پھر اس کی سعی کی اس کے بعد طوافِ قدوم اور حج کی سعی کی اس کے بعد وہ وقوف عرفہ سے پہلے محصر ہوگیا یعنی وقوفِ عرفہ وطوافِ زیارت سب سے روک دیا گیا تو وہ ایک ہدی بھیجے اور اس کو ذبح کراکر حلال ہوجائے اور ایک حج وعمرہ اپنے حج کی وجہ سے قضا