عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ایک عمرہ قضا ادا کرنا واجب ہوتا ہے جیسا کہ حاوی میں ہے اوراگر قضا حج کا احرام باندھنے کے بعد اسے روک دیا گیا تو اس پر دو حج اور دو عمرے واجب ہوں گے اور اسی طرح جتنی مرتبہ بھی روک دیا جائے اتنے حج وعمرہ واجب ہوں گے اس کو منتقیٰ میں ذکر کیا ہے اور اسی طرح منسک الکبیر میں ہے ۲؎ یعنی حاوی میں منتقیٰ سے منقول ہے کہ جس شخص نے حج کا احرام باندھا پھراس کو روک دیا گیا اور وہ ہدی بھیج کر ( ذبح کراکے ) احرام سے باہر ہوگیا تو اس پر ایک حج اور ایک عمرہ ( قضا کرنا ) واجب ہے ، پھراگر آئندہ سال اس حج کی قضا کے ارادہ سے ( احرام باندھ کر ) روانہ ہوا پھر اس کو روک دیا گیا اور اس نے ہدی ( حرم میں )بھیج کر (یعنی ذبح کراکر) احرام کھول دیا تو اس پر دوسرا حج اور دوسرا عمرہ واجب ہوجائے گا پس اس پر دو حج اور دو عمرے واجب ہوں گے اوراسی طرح جب بھی اس کو روک دیا جائے ہر دفعہ کے لئے یہی حکم ہے اھ کبیر ۳؎ (۸) جاننا چاہئے کہ جب کسی شخص نے حج کا احرام اس گمان پر باندھا کہ اس کے ذمہ حج ہے پھر ظاہر ہوا کہ اسکے ذمہ حج نہیں ہے پھر اس کو روک دیا گیا تو اس پر اس حج کی قضا واجب نہیں ہے جیسا کہ امام بزدوی اور صاحبِ کشف الاسرار رحمہ اﷲنے اس کی تصریح کی ہے لیکن سروجی نے غایہ شرح ہدایہ میں ذکر کیا ہے کہ اپنے ذمہ حج کا گمان کرکے احرام باندھنے والے شخص کو اس کے افعال ادا کرنا واجب ہے اور اگر اس کو فاسد کردے تو اس کی قضاواجب ہے اور اگر وہ شخص محصر ہوجائے پھروہ اس کے احرام سے حلال ہوجائے تو اس پر قضا واجب ہونے میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس کی قضا واجب نہیں ہے اس لئے کہ اس کا احرام سے باہر ہونا درست ہے اور اصح یہ ہے کہ اس پر قضا