عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بعد اس کا احصار زائل ہوگیا اور وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ نیا احرام باندھ کر حج ادا کرلے ( اور وہ اسی سال نیا احرام باندھ کر حج کرلے) تو کتاب الاصل کی روایت کے مطابق اس پرصرف قران کے عمرہ کی قضا واجب ہوگی ۸؎ یعنی اس پر دوسرا عمرہ واجب نہیں ہوگا، مؤلف) کیونکہ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہوگا جس کا حج فوت ہوگیا ہو پس اس پر احرام سے حلال ہونے کاعمرہ واجب نہیں ہوگا جیسا کہ مفرد حج والے کے بارے میں اوپر بیان ہوچکا ہے اور اگر وہ شخص افعالِ عمرہ ادا کرکے احرام سے باہر ہوا ہے تب بھی یہی حکم ہے ۹؎ (کہ اس پر یہ عمرہ واجب نہیں ہوگا جیسا کہ آگے آنے والے مسئلہ سے مفہوم ہوتا ہے ، مؤلف) (۵) اور اگر محصر ہدی ذبح کراکے احرام سے باہر نہیں ہوا یہاں تک کہ اس کا حج فوت ہوگیا پھر وہ عمرہ کے افعال ادا کرکے احرام سے باہر ہوا تو اس پر بھی قضا میں کوئی عمرہ واجب نہیں ہے ۱۰؎ (مطلب یہ ہے کہ حج کی قضا کے ساتھ عمرہ اس وقت واجب ہوتا ہے جبکہ احصار کے سال حج نہ کیا ہو اور ہدی ذبح کراکے احرام سے حلال ہوا ہو لیکن اگر ہدی ذبح کراکے حلال نہیں ہوا بلکہ عمرہ کے افعال ادا کرکے حلا ل ہوا ہو تو قضا میں عمرہ واجب نہیں ہوگا، مؤلف عن معلم الحجاج وغیرہ) (۶) اس حج کی قضا جس کے احرام سے حلا ل ہوا ہے ہر محصرپر واجب ہوتی ہے خواہ وہ حج فرض کے ساتھ محصر ہو یا نفل کے ساتھ اور خواہ حج صحیح ہو یا صحیح روایت کی بِنا پر حج مظنون ہو یا فاسد ہو، اپنا حج ہو یا حج بدل اور وہ شخص حُر (آزاد) ہو یا غلام ، البتہ غلام اور اس کے مثل ( لونڈی وغیرہ) پر اس کاادا کرنا آزاد ہونے کے بعد واجب ہوگا ۱؎…(۷) حج بدل کرنے والا شخص جب محصر ہوجائے تو اس پر اپنی طرف سے ایک حج اور