عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اسمائے الٰہی توقیفی ہیں یعنی وہ ہیں جو کلام اللہ یاکلام پیغمبران(احادیث شریف)میںآئے ہیں اور صاحب شرع سے سننے پر موقوف ہیں۔ ان کے علاوہ عام لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے عقلی وعرفی ناموں سے پکارنا ہرگز جائز نہیں خواہ وہ صحیح ناموں کے ہم معنی ہی ہوں مثلا ً عاقل بجائے عالم کے اسی طرح پر عاشق ومعشوق ساقی سخی طبیب محبوب محجوب اور یزداں وغیرہ۔ یزداں اس لئے کہ مجوس نے اللہ تعالیٰ کے دو نام فرض کئے ہیں، ۱۔ یزداں، خالق خیر، ۲۔ اہر من، خالق شر۔ علیٰ ہذالقیاس۔ یہود ونصاری وہنود اور دیگر غیر مسلم قوموں کے ہاں جواللہ تعالیٰ کے نام مقررہیں ان ناموں سے نہ پکارنے میںاحتیاط ہے، ا س لئے کہ ہوسکتاہے کہ وہ کسی ناجائز صفت کے لحاظ سے قرار دیئے گئے ہوں مگران ناموں کی بے ادبی بھی نہ کرنی چاہے، ممکن ہے کہ وہ کسی صفت الٰہی کے لحاظ سے صحیح ہوں اور اس زبان میںاپنے پیغمبر سے سیکھے ہوں اور ان مذاہب میں تحریف کی وجہ سے ہمیں اس کا صحیح علم نہ ہوسکاہو، اس لئے ہمیں احتیاط لازم ہے۔ مسئلہ: اللہ تعالیٰ کو کُل اور بعض (جزو)سے موصوف کرنا بھی جائز نہیں اس لئے کہ کلیت وجزئیت اجسام کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے۔مسئلہ: اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات بے مثل قدیم لازوال اور باکمال ہیں، بندوں کی طرح ناقص نہیں کیونکہ بندے دیکھنے سننے کلام کرنے میں وغیرہ میں اسباب کے محتاج ہیں،مثلا ً بندوں کا دیکھنا بغیر آنکھ کے اور عدم حجاب کے ناممکن ہے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اس نقص سے بری ہیں اللہ تعالیٰ کی جمیع صفات بے کیف اور ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تمام ناقص صفتیںاس کی بار گاہ سے دور ہیں، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ ماں باپ اور اولاد والا ہے، بہن، بھائی، بیوی، رشتے داروں وغیرہ سے پاک اور بری ہے مکان ومقام سے پاک