عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس کے بعد فرض حج ادا کرنا بھی واجب ہے، مؤلف) لیکن بدائع میں جو کراہت کو مطلق بیان کیا ہے اور وہ کراہت تحریمی کی طرف پھیری گئی ہے اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اس کا کلام اس شخص کے بارے میں ہے جس نے اپنا حج ادا نہیں کیا اور حالانکہ اس پر حج فرض ہوچکا ہے جیسا کہ فتح القدیر کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے اور ہم حج کے شروع بیان میں لباب اور اس کی شرح سے ذکر کرچکے ہیں کہ آفاقی فقیر جب میقات پر پہنچ جائے تو وہ مکی کی مانند ہوجا تا ہے کہ اگر وہ وہاں سے پیدل چل کر حج کرنے پر قادر ہوتو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے اور اس کو اس گمان سے کہ وہ فقیر ہے اس پر حج فرض نہیں ہے حج نفل کا احرام نہیں باندھنا چاہئے کیونکہ جب تک وہ آفاقی تھا اس وقت تک اس پر حج فرض نہیں ہوا تھا اور جب وہ مکی کی مانند ہوگیا تو اب اس پر حج فرض ہوگیا پس اگر وہ نفلی حج کی نیت سے احرام باندھے گا ( تو اس کو پورا کرنا لازم ہوگا ) اور اس کو ایک اور حج کرنا لازم ہوگا اھ لیکن یہ مسئلہ اس پر دلالت نہیں کرتا کہ مامور فقیر جس نے اپنا حج ادا نہیں کیا اس کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ اس کو جو استطاعت حاصل ہوئی ہے اور وہ دوسرے شخص کی استطاعت سے ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکاہے اور دوسرے کی وجہ سے استطاعت کا ہونا غیر معتبر ہے بخلاف اس شخص کے جو فقیر ہے اور اپنی طرف سے حج کرنے کے لئے روانہ ہوا کہ جب وہ میقات پر پہنچ جائے گا تو اپنی قدرت سے حج پر قادر ہوجائے گا پس اس پر حج فرض ہوجائے گا اگرچہ شروع میں اس کاسفر نفلی حج کے لئے تھا اور مامور فقیر جس نے اپنا حج نہ کیا ہو اگر اس کا بھی یہی حکم ہوتو امام ابن الہمام ؒ کا یہ کہنا صحیح نہیں رہے گا کہ اپنے اوپر حج واجب ہونے کے بعد اپنا حج ادا کئے بغیر کسی دوسرے کی طرف سے حج ادا کرے تب مکروہ تحریمی ہے ورنہ تنزیہی ہے اور کراہت تحریمی کی یہ