عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
فتویٰ دیا ہے اور اس بارے میں ایک رسالہ تالیف کیا ہے کیونکہ اس کو اس سال میں اپنی طرف سے حج کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ اس کا سفر دوسرے شخص کے مال سے ہوا ہے اور وہ آمر کی طرف سے احرام باندھے گا اور اسی کی طرف سے حج کرے گا اور اپنا حج ادا کرنے کے لئے آئندہ سال تک مکہ معظمہ میں اقامت کرنا اور اپنے اہل و عیال کو اپنے شہر میں چھوڑدینے میں بہت بڑا حرج ہے، اور اسی طرح اس کو اپنے وطن واپس لوٹ آنے اور پھر اپنے وطن سے آکر حج کرنے میں جبکہ فقیر بھی ہے بہت بڑا حرج ہے ۶؎ اور ( اس پر حج فرض ماننے کی صورت میں ) اگر وہ مرگیا اور اس نے حج نہ کیا تو گنہگار ہوگا ( یہ بھی حرج ہے اور یہ سب مامور کے بارے میں ہے ) بخلاف اپنی طرف سے نفلی حج کرنے والے کے جس کے بارے میں فقہا نے صراحت کردی ہے کہ ( مکہ معظمہ پہنچنے پر ) اس پر حج واجب ہوجائے گا اھ اور ملا سنان ؒ نے اپنی منسک قرن العیون میں کہا ہے کہ مامور بھی اپنی طرف سے نفلی حج کرنے والے فقیر کی مانند ہے جس نے اپنا حج ادانہ کیا ہو پس اگر وہ راستہ میں زادِ راہ کمانے پر قادر ہے یا اس کے پاس اتنا مال موجود ہے جو افعالِ حج ادا کرنے کے ایام میں کافی ہوسکے یا کوئی شخص اتنی رقم اس کو بطور احسان دیدے تو اس پر اپنا حج فرض ہوجائے گا کیونکہ حج واجب ہونے کی شرط یعنی زادِ راہ پر قدرت پائی گئی ہے اور کسی دوسرے شخص کی طرف سے احرام باندھے ہوئے ہونا اور اسکو پورا کرنے کا لزوم اس پر حج واجب ہونے کے منافی نہیں ہے جیسا کہ کسی شخص پر نماز کا وقت ایسی حالت میں داخل ہوا جبکہ اس نے نفل نماز شروع کی ہوئی ہو تو اس کو اس نفل کو پور ا کرنا واجب ہے اور اس پر اس وقت کی فرض نماز بھی فرض ہوجاتی ہے اور جیسا کہ فقیر شخص نے نفلی حج کا احرام باندھا پھر وہ مالدار ہوگیا ۷؎ (کہ اس کو یہ نفلی حج پورا کرنا بھی واجب ہے اور