عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہو ا ہے اب وہ اس احرام کو اپنی طرف منتقل نہیں کرسکتا پس اگر اس پر حج واجب ہوجائے تو اس کو آئندہ سال تک اپنا حج ادا کرنے کے لئے ٹھہر نا چاہئے اور اکثر اتنے طویل عرصہ تک ٹھہرنے کی استطاعت نہیں ہوتی پس واجب کو اپنے ذمہ سے ادا کرنے کے لئے اس کا عمرہ کرلینا کافی ہے، اور جو شخص مکہ معظمہ میں داخل ہوا فقہا نے اس پر حج کے واجب ہونے کو معین نہیں کیا ہے پس آگاہ رہئے اھ ۱؎ اور ملا علی قاریؒ نے بھی اس کے تصریح کی ہے کہ مکہ معظمہ پہنچنے پر اس پر حج فرض ہوجائے گا ۲؎ اور مفتئ دارالسلطنت ( قاہرہ) علامہ ابو سعودؒ نے بھی اس پر حج واجب ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور سکب الانھر میں اس کی پیروی کی ہے اور سید احمد بادشاہ نے بھی اسی پر فتوٰی دیا ہے اور اس بارے میں ایک رسالہ تالیف کیا ہے ۳؎ اور بعض نے کہا ہے کہ اس پر حج فرض نہیں ہوگا کیونکہ وہ مکہ معظمہ میں احرام کی حالت میں داخل ہوا ہے پس وہ اس شخص کی مانند ہوگیا جو مریض ہو اور خود حج ادا کرنے سے عاجز ہو یا اپاہج یا قیدی ہو جبکہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں ہوں ۴؎ (یعنی باوجود مکہ معظمہ میں ہونے کے ان پر حج فرض نہیں ہوتا،مؤلف) اور اس لئے بھی اس پر حج فرض نہیں کہ اس نے دوسرے کی استطاعت سے حج کیا ہے اپنی استطاعت اور اپنے مال سے نہیں اور جب وہ حج سے فارغ ہوگا تو حج کے مہینے شوال و ذیقعدہ وعشرئہ ذی الحجہ گزرچکے ہوں گے، اس پر آئندہ حج کے مہینے آنے تک مکہ معظمہ میں ٹھہر نا کس طرح واجب ہوسکتا ہے پس جب وہ شخص فقیر ہے اور اس کے اہل و عیال اس کے شہر میں ہیں اس کو نفقہ کے بغیر اور اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر آئندہ سال حج کا وقت آنے تک مکہ معظمہ میں ٹھہر نے کے لئے کسی صریح نقل ( روایت ) کی ضرورت ہے پس غور کرلیجئے ۵؎ اور اس پر حج واجب نہ ہونے کے قول پر مولانا عارف باﷲ تعالیٰ شیخ عبدالغنی نابلسی نے