عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پر اس پر حج فرض ہوجائے گا ۷؎ ۔ چنانچہ مجمع الانھر میں ہے کہ جس شخص نے اپنا حج ادا نہ کیا ہو اس سے دوسرے شخص کا حج کرانا جائز ہے لیکن خانہ کعبہ کو دیکھنے کے وقت (یعنی مکہ معظمہ پہنچنے پر ) اس پر اپنی طرف سے حج کرنا فرض ہوجائے گا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ آئندہ سال تک مکہ معظمہ میں ٹھہرے اور اپنا حج ادا کرے یا اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹنے کے بعد اپنے مال سے اپنا حج ادا کرے اگرچہ وہ فقیر ہو، پس اس کو یاد رکھنا چاہئے حالانکہ اس سے لوگ غافل ہیں اھ ۸؎ اور سید محمد یاسین میر غنی کی کتا ب المنتقیٰ فی حل الملتقیٰ میںہے کہ جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو اس سے کسی دوسرے شخص کا حج کرانا جائز ہے اگرچہ اس پر اپنا حج فرض نہ ہو پس جب وہ مکہ معظمہ میں داخل ہوگا تو اب اس پر اپنا حج بھی فرض ہوجائے گا کیونکہ اب وہ اپنا حج ادا کرنے پر قادر ہوگیا ہے اھ۔ اور ( ملا عابد سندھی کی کتاب) طوالع الانوار میں ہے کہ جس شخص نے اپنا حج ادانہیں کیا اور ابھی اس پر حج بھی فرض نہیں اگر وہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے حج کرے تو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے پر استطاعت پائی جانے کی وجہ سے اس پر حج فرض ہوجائے گا جیسا کہ اس کو ملا سنان نے اپنی منسک میں واضح طور پر بیان کیا ہے اور امام شافعی ؓ نے ایسے شخص کو دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنے کو منع کیاہے جس نے اپنا حج ادا نہ کیا ہو اھ۔ اور طوالع الانور میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم نے جو ملا سنان سے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے اس پر اپنا حج فرض ہوجائے گا اس سے غافل نہ ہونا چاہئے، اور حق بات یہ ہے کہ اس پر دونوں نسک ( حج و عمرہ ) میں سے ایک نسک واجب ہوگا کیونکہ جب تک استطاعت حاصل نہ ہو حج فرض نہیں ہوتا اور دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنے والے نے دوسرے شخص کی طرف سے احرام باندھا