عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
قسم چہارم وہ کلمات ہیں جن سے اشارۃً شک ثابت ہو۔ مثلا ً کسی نے کہاکہ قیامت ضرور آئے گی اس نے سنکر کہا کہ دیکھا چاہیئے یا کسی نے کہا جنت میں مومنوں کو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی اور کافروں کو دوزخ میں بڑے سخت عذاب ہوں گے اس نے کہاکیا خبر ہے یہ سب کفر ہے دوسرے اجزائے ایمان کو بھی اسی پر قیاس کرلیجئے۔ قسم پنجم وہ افعال ہیںکہ جن سے انکاریا شک صراحتاًیا اشارتاً سمجھا جائے، مثلاً کسی نے قرآن مجید کو اہانت کی غرض سے نجاست یاآگ میں ڈالا یااہانت کی غرض سے کعبے کی طرف پیشاب کیایاتھوکا یاکسی مسجد کو کو گرایا یا کسی عالم کو ما ڈالا یا شرع کی کسی بات پر ٹھٹھا کیا مثلاً ایک شخص واعظ قرآن یا قاریٔ قرآن کی نقل کرنے لگا اورچند لوگ اس کے پاس بیٹھ کر ہنسی سے اس سے مسائل پوچھنے لگے یا اس نقل قرأ ت پر مذاق سے ہنسنے لگے بس وہ سب کافر ہوگئے یا ثواب جان کر کفر کسی رسم کو عمل میں لایا مثلا ً زنا رگلے میں ڈالا یاصلیب ڈالی یاہنود کی مانند ماتھے پر ٹیکہ لگایا ہولی اور نور وز کو منایا یامجوس کی سی ٹوپی پہن لی۔ یا کفار کی سی شکل وصورت و وضع قطع بنالی یا ان کے کسی خاص لباس کو پہنا۔ پس اگر ان باتوں کو اچھا جان کرکرے گا تو کافر ہوجائے گا اوراگر گناہ جان کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا مگر کافر نہ ہوگا۔ اگر عذر کیساتھ یعنی کسی کے خوف سے کریگا کہ اگر نہ کرے گا تو کوئی مار ڈالے گا یا ان کے ملک میں سے گزرنہ سکے گا اورضرر پہنچے گا تب بوجہ ضرورتِ شرعی گناہ بھی نہیں یاکسی بت یاقبر یا صاحب قبر کے نام بکرا وغیرہ ذبح کیایابت یا قبروں کو سجدہ کیایا تو پ یا تھان یادریا یا چبوترہ یا جھنڈے کے آگے جانور ذبح کیا ا للہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کیا یا اورافعال شرک بجالا یا قبلہ معلوم ہوتے ہوئے بے عذر دوسری طرف منہ کرکے نماز پڑھی یا کسی منع کئے ہوئے کام کو حلا ل سمجھ کر کیا مثلاً زنا کر نادرست وحلال