عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
دوزخ کے کسی ثواب وعذاب خاص کا جو کہ قرآن حدیث متواتر میں مذکورہ ہے انکار کیا مثلا ً کہا کہ وہاں حوریں نہیں یاغلمان نہیں یا دوزخ میں زقوم کا درخت نہیں یاکسی دوزخی کیلئے ستر گز کی زنجیر نہ ہوگی وغیرہ یا اگر کوئی کسی سے کسی حق کا طالب ہو وہ نہ دے توصاحب حق کہے کہ میں قیامت کے دن سو گنا لے لو نگا وہ کہے کہ کچھ اوربھی دید ے اور قیامت کو سب لے لینا، یا اگر کوئی کہے کہ خدا تجھے جنت نصیب فرمائے اور وہ کہے کہ میں اس کو ہر گز بھی نہ چاہوں یا اگر کوئی کہے کہ میں نہیں جانتاکہ کافروں کا مکان جنت میں ہوگا یادوزخ میں تو یہ قرآن کا انکار اور کفر ہے یا یوں کہے کہ مجھے دوزخ کا بالکل خطرہ نہیں۔ یا اگر کوئی کہے کہ گناہ نہ کر اورپرہیز کرتا کہ اس جہان آخرت میں تیر احال تباہ نہ ہو، وہ جواب دے کہ اس جہاں سے کون آیا ہے، یا تناسخ کا قائل ہونااور ہندوؤں کے عقیدے کی طرح یہ کہنا کہ مُردوں کی روح زندوں میں آجاتی ہے او ردوسر اجنم لے کر اس جہاں میں رہتی ہے۔ قسم دوم وہ کلمات ہیں جن سے اشارتاًانکار ثابت ہوتاہو۔ یعنی ان ہی قسم اول کی چیزوں کو اس طرح سے کہے کہ اس سے انکار نکلتاہو، مثلا ً کسی نے کہا کہ سب دینوں میں اسلا م حق ہے اس نے سن کر کہا کہ سب دین حق ہیں تو ہو کافرہوگیا یا نجومی یا کاہن کو سچا کہایاکسی نبی کی اہانت کی مثلا ً ان کی کسی بات پر عیب لگا یا، یا ان کے کسی فعل کی ہنسی اڑائی، یا ان کے حسب ونسب شکل وصورت پر طعن کی و غیرہ ان سب صورتوں میں کافر ہوگیا۔ قسم سوم وہ کلمات ہیں جن سے صراحۃً شک ثابت ہو، مثلاً کسی نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے کریم ہونے میں یارحیم یا رزاق ہونے میں شک ہے تو وہ کافرہوگیا۔ علی ٰ ہذا لقیاس جو چیزیں قطعی الثبوت ہیں اگر ان میں شک وشبہ کرے تو کفر ہوجائے گا۔