عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس قدر نہیں ہے تو اس رقم سے جہاں سے حج ہوسکتا ہے وہاں سے کرانا واجب ہے اور اگر اس نے اپنے حج کے لئے ترکہ کی تہائی سے زیادہ مال معین کردیا تو تہائی مال سے جس جگہ سے حج ہوسکتا ہے وہاں سے کرانا واجب ہے ۹؎ (۹) اور اگر اس نے اپنے شہر کے علاوہ کسی اور جگہ سے حج کرنا معین کردیا یعنی جس شخص کا وطن ہے اس نے اپنے شہر کے علاوہ کسی او ر جگہ سے اپنے حج کرانے کی وصیت کی، تو جہاں سے وصیت کی ہے وہاں سے اس کا حج کرایا جائے خواہ وہ جگہ جس کی وصیت کی ہے مکہ معظمہ سے قریب ہو یا بعید ۱۰؎ اور ضیا ء الابصار میں ہے کہ خواہ اس نے مکہ معظمہ سے حج کرنے کی وصیت کی ہو جیسا کہ ملا سنانؒ نے اس کی تصریح کی ہے اھ ۱۱؎ (۱۰) اور ظاہر یہ ہے کہ اگر میت کے تہائی ترکہ میں اس کے شہر سے حج کرنے کی گنجائش ہو تو اس کو اپنے شہر سے حج کرنے کی وصیت کرنا واجب ہے پس اگر اس کے باوجود تہائی سے کم رقم کی وصیت کی ( اور اس معین رقم سے اس کے شہر سے حج ادا نہیں ہوسکتا ) یا حج کے لئے اپنے شہر کے علاوہ کوئی اور جگہ معین کی تو گنہگار ہوگا۔ کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ اس پر اپنی سکونت کے شہرسے حج کرانا واجب ہے ۱۲؎ اسی طرح اگر اپنے شہر کی بجائے مکہ معظمہ کے قریب سے خرچہ کم ہونے اور روپیہ بچانے کی غرض سے حج کرنے کی وصیت کی تو مکروہ ہوگا ۱۳؎ (۱۱) اگر کسی خراسانی شخص کو مکہ معظمہ میں موت آگئی اور اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے حج کیا جائے تو اس کی طرف سے اس کے وطن خراسان سے حج کیا جائے اور اسی طرح اگر مکہ کا رہنے والا شخص رَے (عراق کا ایک شہر ) میں آیا اور وہاں اس کو موت آگئی پس اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے حج کیا جائے تواس کے وطن مکہ