عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
واجب ہے ۳؎ (یہ مسئلہ طوافِ زیارت میں بھی بیان ہوچکا ہے ، مؤلف) اگر حج فرض ہوتے ہی اسی سال حج کو روانہ ہوگیا پھر وقوفِ عرفہ کرنے کے بعد اور طوافِ زیارت سے پہلے مرگیا تو اب اس پر حج پورا کرنے کے لئے بدنہ کی وصیت کرنا واجب نہیں ہے ۴؎ (۵) اور اگر وصیت کرنے والے کے دو یا کئی وطن ہوں تو اس میں سے جومکہ معظمہ کے قریب ہے اس سے اس کا حج کرایا جائے اس لئے کہ قریبی وطن وصیت میں یقینی طور پر داخل ہے اور دور والے وطن کے وصیت میںداخل ہونے میں شک ہے پس یقینی کو اختیار کیا جائے گا ۵؎ (۶) اور اگر وصیت کرنے والے کا کوئی وطن نہ ہو تو جہاں فوت ہوا ہے وہاں سے اس کا حج کریا جائے اس لئے کہ وہ جگہ اس کے وطن کے قائم مقام ہوگئی ۶؎ (۷) اور اگر کوئی شخص اپنا حج ادا کرنے کے لئے روانہ ہوا اور راستہ میں کسی شہر میں ٹھہر گیاحتیٰ کہ سال گزرگیا پھر وہ شخص مرگیا اور اس نے حج کی مطلق طور پروصیت کی تو ہمارے سب ائمہ کے نزدیک اس کے شہر سے حج کرایا جائے ۷؎ کیونکہ وہ حج اس کے اس سفر کے ساتھ متصل نہیں رہا جس کے لئے وہ اس سال روانہ ہوا تھا اس لئے وہ سفر حج کے لئے معتبر نہیں ہوگا ۸؎ (۸) اور یہ سب احکام اس وقت ہیں جبکہ وصیت کرنے والے نے مال کی مقدار معین نہ کی ہو لیکن اگر اس نے مال کی مقدار معین کردی مثلاً یہ کہا کہ میری طرف سے ایک ہزار درہم میں حج کرایا جائے اور یہ رقم تہائی ترکہ میں سے نکالی جاسکتی ہے تو اگر یہ رقم اس قدر ہے کہ اس کے شہر سے حج ہوسکتا ہے تو اس کے شہر سے حج کرانا واجب ہے اور اگر