عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
طرح نہیں ہے ( کہ جہاں سے وہ رقم کافی ہوسکتی ہو وہاں سے حج کرے) اس لئے کہ اس کو آمر کی طرف رجوع کرنا ممکن ہے اور اس سے اس کمی کا تدارک ہوسکتا ہے بخلاف میت کے ۴؎ اور فقہا نے مامور کے راستہ میں فوت ہوجانے کے مسئلہ میں یہ قید لگائی ہے کہ وہ وقوفِ عرفات سے پہلے فوت ہوا ہو اس لئے کہ اگروہ وقوفِ عرفات کے بعد طوافِ زیارت کرنے سے قبل فوت ہوا تو اس کا حج آمر کی طرف سے جائز وکافی ہے کیونکہ اس نے حج کارکنِ اعظم اداکرلیا ہے ۵؎ لیکن اگر کوئی شخص حج فرض ہونے کے سال دو سال بعد خود حج اداکرنے کے لئے روانہ ہوااور وقوفِ عرفات اد ا کرنے کے بعد طوافِ زیارت کرنے سے پہلے مرگیا اور اس نے حج پورا کرنے کے لئے وصیت کی تو بدنہ واجب ہوگا اور اس کا حج جائز ہوجائے گا ۱؎ (یعنی حج پوار کرانے اور طوافِ زیارت کے لئے اس پر فقط بدنہ کی وصیت کرنا واجب ہے نہ کہ سارے حج کا اعادہ کرنے کی کیونکہ حدیث اِنَّ الْحَجَّ عَرْفَۃً کے بموجب اس کا حج پورا ہوگیا ۲؎ ) اسی طرح اگر وقوفِ عرفات ادا ہوجانے کے بعد عرفات میں مرگیا تو باقی افعالِ حج یعنی وقوفِ مزدلفہ ورمی وطوافِ زیارت اور طوافِ وداع کے لئے بھی وہی ایک بدنہ ذبح کرنا کافی ہے اور اس کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے اور اس کا حج جائز ہوجائے گا یہ طرابلسی نے امام محمدؒ سے نقل کیا ہے اور فتاویٰ قاضی خاں اور فتاویٰ سراجیہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ ان میں کہا ہے کہ کسی میت کی طرف سے حج کرنے والا مامور جب وقوفِ عرفات اداکرنے کے بعد مرجائے تو میّت کا حج جائز ہوگیا اس لئے کہ اس نے حج کا رکنِ اعظم ادا کرلیا ہے کہ جس کے فوت ہونے سے حج فوت ہوجاتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے اَلْحَجُّ عَرْفَۃ’‘ (وقوفِ عرفہ ہی حج ہے ) اوریہ وجوبِ بدنہ کے منافی نہیں ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے ۔ پس وہ اب میت کے مال سے دینا