عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تینتیس اور تہائی درہم دیا جائے گا جبکہ اس سے حج پورا ہوسکتا ہو ورنہ وصیت باطل ہوجائے گی اور امام محمدؒ کے نزدیک اس ایک ہزار درہم میں سے جو پہلے مامور کودیا گیا تھا اگر اس قدر باقی ہے جس سے حج ادا ہوسکتا ہے تو اس باقی رقم سے دوبارہ حج کیا جائے گا ورنہ وصیت باطل ہوجائے گی پس یہ اختلاف دو باتوں میں ہے ایک یہ کہ دوبارہ کس قدر رقم دی جائے گی اور دوسرے یہ کہ دوبارہ حج کرانا کس جگہ سے واجب ہوگا اورپہلی بات مامور کے پاس سے نفقہ ہلاک ہونے پر مبنی ہے اور دوسری بات مامور کے راستہ میں مرجانے پر مبنی ہے پس اگر مامور راستہ میں فوت نہیں ہوا اور اس کا نفقہ راستہ میں یاحج پر روانہ ہونے سے پہلے چوری ہوگیا تو پہلی صورت واقع ہوگی( یعنی یہ کہ کس قدر دوبارہ دی جائے ) اور دوسری صورت( یعنی کہاں سے حج کرانا واجب ہے ) واقع نہیں ہوگی( پس اس صورت میں اس کے شہر سے ہی حج کرانا بالاتفاق واجب ہوگا، مؤلف) واﷲ اعلم بالصواب ۱؎ اور یہاں پر صاحبین کا قول اوجہ ہے ۲؎ اور یہ اختلاف اس وقت ہے جبکہ نفقہ مامور کے پاس سے ضائع ہوجائے اور اگر وارثوں کی تقسیم کے بعد وصی کے پاس سے ضائع ہوتو بالاتفاق باقی ترکہ کی تہائی سے اس کا حج کرایا جائے جیسا کہ تاتر خانیہ میں ہے ۳؎ (۴) اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ حج کراتے وقت آمر فوت ہوچکا ہے لیکن اگر آمر کی زندگی میں مامور راستہ میں فوت ہوجائے تو آمر ہر حا ل میں اپنی جگہ سے کسی دوسرے شخص کو بھیج کر حج کرائے اس لئے کہ وہ زندہ ہے پس اس کی طرف سے رجوع کیا جائے گا اور اسی لئے اگر اس شخص نے کسی شخص کو امر کیا کہ وہ اس کی طرف سے حج کرے اور اس کو رقم دی لیکن وہ رقم اتنی نہیں جو اس کے شہر سے حج کرنے کے لئے کافی ہوتو جہاں سے حج کرنے کے لئے وہ رقم کافی ہو وہاں سے حج نہ کرے اس کا حکم میت آمر کی