عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جائے اور اگر تیسرا شخص بھی مرجائے تو اسی طرح ہر دفعہ باقی مال سے اس کی طرف سے حج کرایا جائے حتیٰ کہ تہائی مال میں سے اتنا مال باقی نہ رہے کہ جس سے حج ہوسکے تو اب اس کی وصیت باطل ہوجائے گی اور صاحبین کے نزدیک بقیہ مال سے ہر بار اس جگہ سے حج کرایا جائے جہاں مامور فوت ہوا ہے لیکن امام ابو یوسفؒ کے نزدیک تہائی مال میں سے جورقم باقی ہے اگروہ اس قدر ہے کہ اس سے حج ہوسکتا ہے تو اس کا حج کرایا جائے اور اگر اس قدر نہ ہو تو وصیت باطل ہوجائے گی اور امام محمدؒ کے نزدیک مامور کودی ہوئی رقم میں سے اس قدر باقی ہے جس سے حج ہوسکتا ہے تو اس کا حج کرایا جائے اور اگر اس قدر نہ ہوتو وصیت باطل ہوجائے گی پس اگر مامور کودی ہوئی رقم ترکہ کی ایک تہائی پوری ہے تو امام ابو یوسفؒ کا قول بھی امام محمدؒ کے مطابق ہے او ر اگر وہ رقم تہائی کا کچھ حصہ ہے تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک مامور کے پاس باقی بچی ہوئی رقم کے ساتھ تہائی کا بقیہ ملاکر اگر اس سے حج اداہوسکتا ہے تو حج کرایا جائیگاورنہ وصیت باطل ہوجائے گی مثلاً آمر کی متروکہ رقم چار ہزار درہم ہے اور وصی نے مامور کو حج کرنے کے لئے ایک ہزار درہم دیئے اور وہ سب چوری ہوگئے تو اب باقی متروکہ مال کی تہائی میں جس قدر حج کے لئے کافی ہوں یا کل تہائی رقم یعنی ایک ہزار درہم دوبارہ حج کرانے کے لئے دی جائے اور اگر دوباری چوری ہوجائے تو اب باقی متروکہ مال یعنی دوہزار کی تہائی اس کو حج کرنے کیلئے دی جائے، اسی طرح ہردفعہ کیا جائے حتیٰ کہ باقی متروکہ مال کی تہائی اس قدر نہ ہو جس سے حج ادا ہوسکے تو اب وصیت باطل ہوجائے گی اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک چونکہ کل مال یعنی چار ہزار درہم کاتہائی ایک ہزار تین سو تینتیس اور تہائی درہم ہوتی ہے جس میں سے ایک ہزار پہلے مامور کودیا جاچکا ہے جو چوری ہوگیا اب دوسری دفعہ (۳؍۱۔۳۳۳ ) تین سو