عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نے کیوں پید اکیا ہے کہ تکلیف پر تکلیف دیتاہے اوردنیا کی لذتوں اورخوشی سے کچھ نصیب نہیں کرتا۔ یہ بات بعض علماء کے نزدیک کفر ہے اور بعض کے نزدیک کفر تو نہیں لیکن بڑا سخت گناہ ہے ایسی باتوں سے بچنا چاہیے (اس میں تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر غصہ ہوکر ایسا کہنا کفر ہے سمجھ لیں) کسی نے کہاکہ تم فلاں برے پیشہ کو چھوڑ دو، وہ کہے خدا نے ہم کو یہی فرمایا ہے یہ کفر ہے۔ (۷) جھوٹی باتوں پر خدا کو شاہد کرے (کیونکہ یہ بھی اہانت میں داخل ہے) مثلاًیوں کہے کہ خداگواہ ہے کہ تومجھے اولاد سے بھی زیادہ پیاراہے یا خداجانتا ہے کہ تیری خوشی او رغم مجھے اپنی خوشی اورغم کے برابر ہے ہر گز کم نہیں۔ یا اگر کوئی شخص مدعا علیہ سے کہے کہ میں تجھ سے طلاق کی قسم لیتاہوں نہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک کی۔ اگر یہ بات اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کی حقارت کے طور پرکہے تو کافر ہوجائے گا اور اگر یہ نیت نہ رکھتا ہو بلکہ ا س لئے خدا کی قسم نہ کھلائی کہ جھوٹ سے خدا کی قسم کھا جائے گا اور اس قسم کی کوئی پرواہ نہ کرے گااورطلاق کی جھوٹی قسم نہ کھائے گا بلکہ اس سے پرہیز کرے گا تو اس نیت سے طلاق کی قسم لینے والا کافر نہ ہوگا (سچی قسم کھا نا حلال ہے اور جھوٹی قسم کھانا حرام اورقہر خدا کاسبب ہے) اگر کوئی کسی سے کہے کہ یہ کام خدا کے واسطے کردے وہ کہے میں نہیں کرتا، یہ کفر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں خدا کی قسم اور تیرے پاؤںکی خاک کی قسم کھاتا ہوں تو اس میں کفر کا ڈر ہے کیونکہ یہ سخت بے ادبی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پاک کے ساتھ پاؤں کی خاک کو برابر کیا۔ (۸) اللہ تعالیٰ کے قطعی احکام میں سے کسی حکم کا انکار کرے۔ مثلا ً یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا م کا حکم فرمائے تو بھی میں نہ کروں یا عالم دین کو بغیر کسی ظاہری سبب کے دشمن