عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(۳) اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرے، مثلا ً یوںکہے کہ خدا نہیں ہے یہ سب ڈھونگ ہے یا دنیا خود بخود بن گئی وغیرہ۔ (۴) اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا انکار کرے، مثلاً یوں کہے اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود نہیں ہے یاہمیشہ سے نہیں یا ہر چیز پر قادر نہیں، یا وہ ہر شخص کی دعا نہیں سنتا یافلاں فلا ں چیزوں کی اس کو خبر نہیں یا وہ کلام نہیں کرتا۔ یا وہ مردہ ہے یا مرجائے گا یا اس نے مخلوقات کو پیدا نہیں کیا دنیا خود بخود نبی ہے یادنیا مادہ سے خود بخود پیدا ہوگئی ہے اس کا کوئی خالق نہیں ہے وغیرہ ان سب صورتوں میں کفر ہوگیا یا ا للہ تعالیٰ کے لئے جگہ مقرر کرنایا آسمانوں پر سمجھنا کفر ہے کیونکہ وہ زمان ومکان سے پاک ہے۔ اور یہ جو قرآن شریف میں آیاہے ثُمَّ اسْتَویٰ عَلَی العَرْشِ (الاعراف: ۵۴) ’’پھر عرش پر قائم ہوا‘‘ وغیرہ یہ آیات متشابہات سے ہیں جن کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ کے کسی نام کاخواہ ذاتی ہویا صفاتی انکار کرنا: مثلاًیہ کہے کہ وہ رحیم یا رحمن یا للہ یاغنی یا کریم وغیر نہیں ہے یا یہ اس کے نام نہیں تو کافر ہو گیا۔ (۶) اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بری صفت ثابت کرنا یا اہانت کرنا۔ مثلاً یوںکہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرتا ہے فلا ں ظلم اللہ تعالیٰ کو پسند ہے یافلاں آدمی کے جھوٹ کو اللہ تعالیٰ سچ کردیتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے ماں باپ بھائی بہن بیوی اور اولاد ہے یا اللہ تعالیٰ کھاتا پیتا، سونگھتا اونگھتا ہے یا کسی عورت یا لڑکے سے عشق رکھتا ہے یاجماع کرتا ہے یا وہ کسی مرد یاعورت کی شکل میں ہے یا وہ بخیل ہے یا وہ کسی سے ڈر جاتا ہے یا وہ کسی سے مغلوب ہوجاتا ہے یا وہ کسی چیز کو بھول جاتا ہے یا وہ بہت کام کرنے سے تھک جاتا ہے وغیرہ، ان سب صورتوں میں کافر ہوگیا اگر کوئی کسی تنگی کی یا بیماری کی تکلیف میں یہ کہہ دے کہ نہ معلوم مجھے ا للہ تعالیٰ