عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کنکریاں مارتے ہیں تعلق و مناسبت ہے اور ایک جگہ کو جمرہ کہتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ وہاں کنکریاں جمع ہوجاتی ہیں اس لئے اس جگہ کو جمرہ اور تینوں جگہ کو جمرات و جمار کہتے ہیں ۱۱؎ اور شوافع نے کہا ہے کہ جمرہ و ہ جگہ ہے جہاں ستو ن کے آس پاس کنکریاں جمع ہوجاتی ہیں وہ ستون جمرہ نہیں ہے اور جس جگہ پر وہ ستون کھڑا ہے وہ بھی شوافع کے نزدیک جمرہ نہیں ہے اور انہوں نے کنکریوں کے جمع ہونے کی جگہ کا تخمینہ تین ہاتھ مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر جمرہ کے ستون میں کوئی طاق ہو اور کوئی کنکری اس طاق میں اٹک (ٹھہر ) جائے تو وہ کنکری جائز نہیں ہوگی اسی طرح اگر وہ ستون اس جگہ سے بالکل ہٹادیا جائے اور اس جگہ پر جہاں وہ ستون کھڑا تھا کنکری ٹھہر جائے تو جائز نہیں ہے کیونکہ جمرات کی علامت کے لئے ستون آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں تھے اس لئے کہ اصل یہ ہے جو چیز جس طرح پر تھی جب تک اس کے خلاف تصحیح ثابت نہ ہو اس کو اسی طرز پر باقی رکھا جائے اور فقہائے مالکیہؒ کے نزدیک جمرہ معتمد قول کی بِنا پر تعمیر(ستون) اور اس کے نیچے کی جگہ کا نام ہے ۱۲؎ جاننا چاہئے کہ کنکریاں مارنے کی جگہ پر جو ستون بنے ہوئے ہیں حقیقت میں وہ ستون خود جمرے نہیں ہیں بلکہ احناف کے نزدیک جمرات وہ جگہ ہے جو ان ستونوں کی جڑ کے نیچے ہے اور جس پر یہ ستون بنے ہوئے ہیں پس دراصل کنکریاں ان جمروں یعنی ستونوں کی جڑ کے نیچے والی جگہوں میں مارنی چاہئیں مگر چونکہ اصل جگہ پر ستون قائم ہیں اس لئے کنکریاں اس طرح پھینکی جاتی ہیں کہ ستونوں کی جڑ کے آس پاس یااس کے قریب گریں ، پس اگر ستون کی جڑسے تین ہاتھ سے کم فاصلہ پر گریں تو قریب سمجھی جائیں گی، اگر کوئی کنکری تین ہاتھ یا اس سے زیادہ فاصلہ پر گرے تو دُور سمجھی جائے گی اور جائز نہ ہوگی ،اس کا اعادہ کرے ورنہ جزا لازم ہوجائے گی اگر کوئی