عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کنکری ستون کی چوٹی یا بیچ کے طاق وغیرہ میں تین ہاتھ یا اس سے اوپر بلندی پر اٹک کر رہ گئی تو وہ رمی جائز نہ ہوگی اس کا اعادہ کرے ورنہ جزا لازم ہوگی اور اگر ستون میں جڑ سے تین ہاتھ سے کم بلندی پر اٹک کر رہ گئی تو وہ نزدیک سمجھی جائے گی اور جائز ہوگی۔ اکثر حاجیوں کو دیکھا گیا ہے کہ ستونوں کو اتنے زور سے کنکریاں مارتے ہیں کہ ستون کو لگ کر ستون کی جڑ سے تین ہاتھ یا اس سے زیادہ دور جاگرتی ہیں یہ جائز نہیں کیونکہ ستون کو لگنا معتبر ضروری نہیں بلکہ ستون کی جڑ کے متصل یا اس سے تین ہاتھ سے کم فاصلے پر گرنا ضروری ومعتبر ہے اگرچہ ستون کو نہ لگے اس کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔ (ایک شبہ کا ازالہ)اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اگر کنکری ستون کے اوپر جڑ سے تین ہاتھ یا اس سے زائد بلندی پر اٹک گئی تو جائز نہیں اس پر ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کنکریاں ستون کی جڑ میں پڑتے پڑتے ستون کی جڑ سے تین ہاتھ یا اس سے زیادہ اونچا ٹیلہ بن گیا ہو تو اس پر جو کنکریاں پڑیں گی وہ ستو ن کی جڑ سے دور سمجھی جانی اور ناجائز ہونی چاہئیں۔ اس کا جواب یہ ہے اس صورت کو ستون پر اٹکنے والی کنکریوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ستون پر اٹکنے والی کنکریاں غیر محل اور غیر چیز پر ٹھہر گئی ہیں بخلاف اس کے جو جڑ میں پڑتے پڑتے اپنے صحیح محل پر جمع ہوکر ٹیلہ بن گئی ہیں یہ اپنی جگہ پر آپس میں اتصال کی وجہ سے گویا جڑ کے قریب ہی اعتبار کی جائیں گی۔ دوسری طرح یوں سمجھ لیجئے کہ اگر یہ علامت کے ستون نہ ہوں اور عین ستون کی جگہ پر کنکریاں جمع ہوکر بڑا قبہ بن جائے اور اس کی چوٹی تین ہاتھ یا اس سے زیادہ بلند ہوجائے تو یہ کنکریاں دور نہ سمجھی جائیں گی بلکہ نیچے والی کنکریوں کے اتصال کی وجہ سے نیچے پڑی ہوئی کنکریوں میں ہی شمار ہوں گی اور جائز ہوں گی ۱؎