عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ں میں اور دوبارہ غسل کرنا بھی دشوار ہے اور معراج الدرایہ کی عبارت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی نے جمعرات کے دن یا جمعہ کی رات کو غسل کیا تو اس نے غسل جمعہ کی سنت کو ادا کرلیاکیونکہ اس سے مقصود یعنی بدن ولباس کی بد بو کو دور کرنا حاصل ہوگیا (ش) (پس امام حسن کے قول میں وسعت ہے اور فتوی کیلئے یہی علماء کے نزدیک مختارہے، مؤلف) (۳) عید کا دن بھی بمنزلہ جمعہ کے ہے کیونکہ اس میں بھی بہت بڑا اجتماع ہوتاہے اس لئے بدبو کی ایذا کو دور کرنے کے لئے اس روز بھی نماز فجر کے بعد غسل کرنا ان لوگوں کیلئے سنت ہے جن پر عید کی نماز واجب ہے (ہدایہ وغیرہ تصرفاً) اور اس غسل کے بارے میں بھی امام ابویوسف وامام حسن ؒ کا وہی اختلاف جاری ہوگا جو کہ جمعہ کے غسل کے بارے میں بیان ہوچکاہے (ش ومنحہ) اور حج یاعمر یا قران کا احرام باندھتے وقت غسل کرنا سنت ہے اور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کسی نے اس کو صرف اس دن کے لئے سنت کہاہو اور عرفہ کے روز عرفات میں زوال کے بعد وقوف عرفات کے لئے غسل کرنا سنت ہے یہ عرفات میں داخل ہونے کیلئے یا یوم عرفہ کے لئے نہیں ہے یہ جو بدائع میں ہے کہ اس میں بھی جمعہ کی طرح یہ اختلاف ہے کہ یہ وقوف کے لئے یا یوم عرفہ کے لئے ہے حلیہ میں اس کی تردید کی گئی ہے (بحروش ومنحہ) (۴) اگر جمعہ اور عید یا جمعہ اور عرفہ ایک دن جمع ہوگئے اور کسی شخص نے جماع بھی کیا پھر غسل کیا تو تینوں کیلئے ایک ہی غسل کا فی ہوجائے گا (بحروع ودر) اور سی طرح جمعہ، عید، کسوف اور استسقاء ایک دن میں جمع ہوجائیں تو ان سب کا ثواب حاصل کرنے کیلئے بھی ایک ہی غسل کافی ہوجائے گا جبکہ اس میں ان سب کی نیت کرلی گئی ہو۔ (ش)