عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کرکے جمعہ کی نماز پڑھی تو اس نے امام حسن ؒ کے نزدیک غسل سنت کی فضیلت حاصل کرلی اور امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک حاصل نہیں کی سوم اگرکسی شخص نے طلوع فجر سے پہلے غسل کیا اور اسی غسل کے وضو سے جمعہ کی نماز پڑھی تو اس نے امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک غسل سنت کی فضیلت حاصل کرلی اور امام حسنؒ کے نزدیک حاصل نہیں کی۔ چہارم اگر کسی شخص نے نماز جمعہ کے بعدمغرب سے پہلے غسل کیا تو بعض فقہا نے کہاہے کہ امام ابویوسف کے نزدیک اس کو یہ فضیلت حاصل ہوگی اور امام حسن ؒ کے نزدیک حاصل ہوجائے گی، شارحی نے اسی طرح ذکر کیاہے (فتح وش وبحر ملتقطاً) اور خانیہ میںہے کہ اگر کسی نے جمعہ کی نماز کے بعدغسل کیا تو وہ بالا جماع معتبر نہیں ہے (بحرودر) اور بحرالرائق میں اسی کی تائید کی گئی ہے (ش) جیسا کہ اس میں ہے کہ میرے نزدیک یہی اولیٰ ہے اور آگے اس کی تعلیل بیان کی ہے (بحروتامہ فیہ) عالمگیری میں کہاہے یہ غسل جمعہ کی نماز کے لئے ہے او ریہی صحیح ہے اور شامی میں شرح ہدایۃ ابن الحماد از علامہ سید عبدا لغنی النابلسیؒ کے منقول ہے کہ یہ چاروں غسل نظافت کے لئے مسنون ہیں طہارت کے لئے نہیں پس اگر غسل کے بعد حدث ہوجائے اور وضو کرکے نماز پڑھ لی جائے تو دوبارہ وضو سے نظافت میں اضافہ ہوگا اگرچہ وہ وضو طہارت کے لئے ہوگا پس میرے نزدیک ادائے سنت کے لئے وہ غسل کافی ہے اگرچہ اس غسل اور نماز کے درمیان حدث واقع ہوگیا ہو کیونکہ اس بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان کا مقتضی ٰ صرف نظافت حاصل کرنا ہے اور شامی نے کہاہے کہ نماز جمعہ کیلئے جو صبح سویرے سے جانا سنت ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس سنت کے حصول کے لئے اتنے سویرے سے غسل کرکے جانا اور وضو اس وقت تک باقی رکھنا پھر اسی وضو سے نماز پڑھنا دشوار ہے خاص طور پر طویل دنو