عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پہلے پیش آیا جیسا کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے یا پھر ( مسجد ہونے کی صورت میں ) ان کو حرمت ونجاستِ خمر کا علم بعد میں حاصل ہوا، اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہ سے حدیث نقل کی ہے کہ اس جگہ پر لوگ آنحضرت ﷺ کے سامنے فضیخ کا پیالہ لائے اور آپ نے اس کوپیا اسی لئے اس کو مسجد فضیخ کہتے ہیں اور بعض علمانے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔(واﷲ اعلم)۔ (فضیخ انگور کے عرق کو بھی کہتے ہیں ممکن ہے وہ پیالہ انگور کے عرق (رس) کا ہو واﷲ اعلم ،مؤلف)۔اس مسجدکو مسجدِ شمس بھی کہا جاتا ہے اور آج کل اسی نام سے زیادہ مشہور ہے ، علامہ سمہودی ؒ کہتے ہیں کہ اس کے مسجد ِ شمس مشہورہونے کے ماخذ نہیں معلوم ہوسکے شیخ مجدالدین فیروزآبادی نے کہا ہے کہ اس مسجد کے مسجدِ شمس کے نام سے مشہور ہونے کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ ظاہر نہیں ہے کہ یہ مسجد قریب کے مکانات سے بہت زیادہ بلند جگہ پر ہے اس لئے دوسرے مکانات سے پہلے اس مسجد پر شمس( سورج) کا طلوع نظر آتا ہے اور کہا ہے کہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر ( حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے زانو پر حضورانور ﷺ کے استراحت فرمانے کے وجہ سے حضورانور ﷺ کے دعائے مبارک سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے لئے اعادہ شمس واقع ہواتھا کیونکہ محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے اس کے باوجود ضعیف روایت کی بنا پر یہ واقعہ صبہا پیش آیا تھا جو کہ خیبر کے علاقہ میں ہے چناچہ قاضی عیاض نے اس کی تصریح کردی ہے ۱؎ (۵) مسجد المصلی یا مسجد الغمامہ : یہ مسجد مناخہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے ، مناخہ بضم المیم وفتح النون ، اونٹوں کے بیٹھنے کی