عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
خاوند کی اجازت کی بغیر فرض حج کا احرام باندھا اور اس عورت کا کوئی محرم نہیں ہے اور اس کا محرم موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس کے خاوند نے اس کو منع کیا تو وہ شرعی حق کے لئے مُحصرہ ہے پس حدودِ حرم میں ہدی ذبح کرائے بغیر اس کے خاوند کو اس کا احرام کھلوانا جائز نہیں ہے ، پس اگر اس کے خاوند نے ممنوعاتِ احرام میں سے کسی چیز کاارتکاب کراکر اس کا احرام کھلوادیا تو وہ عورت حدودِ حرم میں ہد ی ذبح کرائے بغیر حج فرض کے احرام سے باہر نہیں ہوگی اور اسی طرح اگراس عورت کانہ خاوند ہے نہ محرم ہے یا اس کا خاوند یا محرم اس کے ساتھ ہے لیکن وہ راستہ میں یا اس عورت کے مکان میںاس وقت مرگیا جبکہ وہ احرام باندھ چکی ہے خواہ کسی قسم کا احرام ہواگرچہ اس پر حج فرض باقی ہونے کے باوجود اس نے نفلی حج کااحرام باندھا ہو تو وہ عورت حدودِ حرم میں ہدی ذبح کرائے بغیر احرام سے حلال نہیں ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ اﷲ تعالیٰ کے حق کے لئے روکی گئی ہے بندے کے حق کے لئے نہیں، پس اس کا احرام سے باہر ہونا اسی چیزکے ساتھ ہوگا جو اصل میں احرام سے باہر ہونے کے لئے موضوع ہے اور وہ ( حدودِ حرم میں ) ہدی کا ذبح کرنا ہے ، اور شاید ان دونوں مسئلوں ( نفلی حج میں فی الفور ہدی کرائے بغیر احرام کھلوادینے اور فرض حج میں ہدی ذبح کرائے بغیر حلا ل نہ ہونے ) میں یہ فرق ہے کہ پہلا احصار حکمی اور دوسرا احصار حقیقی ہے ۱؎۔نیز جان لینا چاہئے کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے منسک الکبیر میں ہے کہ اگر کسی عورت نے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر فرض حج کااحرام باندھا اوراس کو کوئی محرم نہیں ملا تو کتا ب الاصل میں مذکور ہے کہ اس کے خاوند کے لئے جائز ہے کہ ہدی ذبح کرائے بغیر ہی اس کا احرام کھلوادے اور امام کرخیؒ نے ذکر کیا کہ ہدی ذبح کرائے بغیر اس کا حرام نہیں کھلوائے گا اور اسی طرح مبسوط میں فرض حج کے بارے