عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بیان ہوچکاہے ۸؎ ایک دن سے کم باندھنے کی صورت میں صدقہ کاوجوب مطلق بیان ہوا ہے پس ایک گھنٹہ یا اس سے کم وقت کے لئے بھی یہی حکم ہے ۹؎ (۸) اگر سر اورچہرہ کے علاوہ بدن کے کسی اور حصہ پر کپڑے کی پٹی باندھی تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے خواہ کتنی ہی زیادہ جگہ پر ہولیکن بلاعذر ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ تہبند کو گرہ لگانا اور چادر کو خلال ( کانٹے یا پن وغیرہ) سے اٹکانا جائز ہے لیکن بلا ضرورت مکروہ ہے کیونکہ اس طرح وہ سلے ہوئے کپڑے کے مشابہ ہوجاتا ہے اور اپنے دونوں کان وگدی ( گردن) اور ٹھوڑی سے نیچے لٹکی ہوئی ڈاڑھی اور باقی بدن کو چادر اور رومال وغیرہ سے ڈھانپنے میں مضائقہ نہیں ہے بخلاف منہ، رخسار اور ٹھوڑی کے ڈھانپنے کے ( کہ یہ چہرہ میںشامل ہیں اور ان کا ڈھانپنا منع ہے ) اور اپنی ناک پر کپڑے کے بغیر ہاتھ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۱؎ اور ظاہر یہ ہے کہ ناک پر کپڑے کے ساتھ ہاتھ رکھنا صرف مکروہ تحریمی ہے ( اور اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا ) اس لئے کہ ناک چہرہ کے چوتھا ئی حصہ سے کم ہے ۲؎ (ان کی تفصیل احرام کے بیان میں مذکور ہے، مؤلف) (۹) عورت کے لئے احرام کی حالت میں اپنے چہرے کے سوا باقی تمام بدن کا ڈھانپنا جائز ہے خواہ سلے ہوئے کپڑے پہنے یا بغیر سلے ہوئے کپڑے سے ڈھانپے اور خواہ موزے ودستانے وغیرہ پہنے کوئی مضائقہ نہیں ہے ۳؎ عورت کو نقاب یا برقعہ یا کوئی اور کپڑا س طرح پہننا کہ وہ کپڑا چہرے کو مس کرے منع ہے اگر اس نے اس طرح کامل ایک دن پہنا تو اس پر دم واجب ہوگا اورایک دن سے کم پہنا تو صدقہ واجب ہوگا ۴؎ اگر اس نے ایسا ضرورت کی وجہ سے کیا تووہ کفارہ متخیرہ ہوگا، اگرعورت نے اپنے چہرہ پر ایک دن ایک رات کامل تک کپڑے کا ڈھانٹا باندھا تواس پر دم واجب ہوگا اوراس سے کم میں صدقہ