عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
امکان کے اول سال میں اس پر حج کا وجوب متعین ہوجاتا ہے پس وہ اس کے ترک کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور اسی طرح اگر اس نے ابھی اپنا فرض حج ادانہیں کیا اور اپنی طرف سے نفل حج اد ا کیا تب بھی یہی حکم ہے کہ یہ مکروہ ِ تحریمی ہے اس کے باوجود اس کا وہ حج صحیح ہوگا کیونکہ یہ ممانعت اس نفسِ حج کی وجہ سے نہیںہے جو اس نے دوسرے کی طرف سے کیا ہے بلکہ یہ لغیرہٖ ہے یعنی اس ممانعت و کراہت کا سبب خوف ہے کہ ایسا نہ ہو موت آجائے اور وہ اپنا فرض ادا نہ کرسکے کیونکہ ایک سال میں موت کا آجانا کوئی نادر بات نہیں ہے ۱ ؎ اور کافی ابو الفضل میں بھی اسی طرح ہے ۲؎ بحرالرائق میں کہا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ ایسے شخص سے حج کرانا جس نے اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو آمر کے لئے مکروہ تنزیہی ہے اس لئے کہ فقہا سے ایسے شخص نے حج کرانے کو افضل کہا ہے جو اپنا حج اد ا کرچکاہو اور اُس مامور کے حق میں دوسرے کی طرف سے حج کرنا مکروہِ تحریمی ہے جس نے اپنے اندر حج واجب ہونے کی شرائط پائی جانے کے باوجود اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو اس لئے کہ وہ اپنے حج کی ادا ئیگی میں تاخیر کی وجہ سے گنہگار ہوگا واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب ۳؎ اور یہ فتح القدیر کے مذکورہ بالا کلام کے مخالف نہیں ہے اس لئے کہ فتح القدیرمیں مکروہ تحریمی کا حکم مامور کے لئے ہے اور صاحبِ درِمختار کا مکروہِ تنزیہی کہنا آمر کے حق میں سمجھا جائے گا پس بحرالرائق کے اس قول سے آمرکے حق میں یہ مکروہ تنزیہی ہے جبکہ مامور کے حق میں یہ مکروہ تحریمی ہے ان دونوں میں تطبیق ہوجاتی ہے ۴؎ (۳) اور فتح القدیر میں جو یہ کہا ہے کہ جس شخص نے اپنا فرض حج ادا نہیں کیا اگر وہ اپنی طرف سے نفل حج کی نیت سے احرام باندھے تب بھی یہی حکم ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے اس کو مطلق بیان کیا ہے (یعنی خواہ اس پر حج فرض ہوچکا ہو یا ابھی فرض نہ ہوا ہو