عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس کے شہر سے حج کے لئے سفر کرنے کو شامل ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے پس جس طرح مکان کے ذکر کے بغیر مطلق امر کرنے کی صورت میں اس کے شہر سے حج کرنا اس لئے شرط ہے کہ مکان کا امر دلالۃً ثابت ہے پس جب آمر کا امر اس کے خلاف واقع ہوا ( یعنی اس نے اپنے شہر کے علاوہ کسی اور جگہ سے حج کرنے کا امر کیا، مؤلف) تو یہ شرط ساقط ہوجائے گی ( اور اب مامور کو آمر کے معین کئے ہوئے مقام سے حج کرنا واجب ہوجاتا ہے ، مؤلف) اسی طرح میقات کے ذکر کے بغیر امر کرنے کی صورت میں آفاقی کے میقات سے احرام باندھنا جو شرط ہے وہ بھی میقات کاامر دلالۃً ثابت ہونے کی وجہ سے ہے پس جب آمر کی اجاز ت اس کے خلاف واقع ہوئی مثلاً اس کو قران کا امر کیا یا اس معاملہ کو اس کے اختیار پر چھوڑدیا تو یہ شرط بھی ساقط ہوجائے گی یہاں تک کہ اگر اس نے میقات سے عمرہ کا احرام باندھا پھر مکہ معظمہ سے اس کے ساتھ اس کی طرف سے حج کے احرام کو ملالیا حتیٰ کہ اس کاقران ہوگیا تو جائز ہے اس لئے کہ اس نے اس کو امر کے مطابق ادا کردیا ہے اور اب وہ مکہ معظمہ سے اس کے حج کا احرام باندھنے کی وجہ سے مخالف نہیں ہوگا کیونکہ اس کو اس کی اجازت دلالۃً حاصل ہے اسی طرح گر آمر نے تمتع کا امر کیا تو تمتع میں نیابت جائز ہونے کے قول کی بِنا پر مامور کا تمتع کرنا بھی جائز ہوجائے گا جیساکہ آگے آتا ہے پس آمر کے میقات سے احرم کا باندھنا نیابتِ حج کے لئے فی نفسہٖ شرط نہیں ہے بلکہ آمر کے امر سے دلالۃً ثابت ہونے کی وجہ سے ہے واﷲ اعلم ۱؎ (۳) اگر مامور نے میقات سے عمرہ کا احرام باندھاحالانکہ اسکو حج کا امر کیا گیا ہے پھر مکہ معظمہ جاکر حج کااحرام باندھا تو آمر کا حج ادا نہ ہوگا اور سب ائمہ کے قول کے مطابق وہ مخالف اور ضامن ہوگا کیونکہ وہ حج فرض کیلئے سفر کرنے پر مامور تھا اور اس نے اس سفر کو