عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
زیارت سے پہلے یا اس کے بعد عمرہ کااحرام باندھا تو ہدایہ میں اس بارے میں اختلاف بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک اگر حج کا حلق کرانے کے بعد عمرہ کا احرام باندھا ہے تو کتا ب الاصل کی روایت کے ظاہر کی بنا پر اس عمرہ کو ترک نہ کرے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ ممانعت سے بچنے کے لئے عمرہ کو ترک کردے، فقیہ ابو جعفرؒ نے کہا ہے کہ ہمارے مشائخ اسی پر ہیں اھ یعنی ترک کے واجب ہونے کا حکم دیتے ہیں اگرچہ اس نے حلق کے بعد عمرہ کااحرام باندھا ہو اور بعض متاخرین نے اس کو صحیح کہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قارن مسئی (گناہ گار ) ہے، غور کرلیجئے پس اگر اس نے عمرہ ترک کر دیا تو اس پر اس کے ترک کی وجہ سے دمِ رفض واجب ہوگااور اس عمرہ کی قضا بھی واجب ہوگی اور دونوں صورتوں ( یعنی حلق سے پہلے یا بعد میں عمرہ کااحرام باندھنے کی صورت ) میں عمرہ کو ترک نہ کیا اور اس کو پورا کرلیا تو جائز و درست ہے اور اس پر دمِ جمع واجب ہوگا اور دونوںصورتوں میں یہ دمِ کفارہ ہے وہ اس میں سے نہ کھائے ۲؎ (اس کی تفصیل عمرہ کے وقت کے بیان میں گزرچکی ہے وہاں بھی ملاحظہ فرمائیں، مؤلف) (۳) اگر کسی کا حج فوت ہوگیا پھر اس نے فوت شدہ حج کے لئے عمرہ کے افعال ادا کرکے حلال ہونے سے پہلے نئے عمرہ کا احرام باندھ لیا تو اس کو اس ملحقہ عمرہ کااحرام ترک کرنا واجب ہے ۳؎ اس لئے کہ جس کا حج فوت ہوجاتا ہے وہ افعال عمرہ اداکرکے حج کے احرام سے حلال ہوجاتا ہے اگرچہ اس سے اس کے حج کااحرام عمرہ کے احرام میں منتقل نہیں ہوتا پس وہ نئے عمرہ کا احرام باندھنے سے افعال کے اعتبار سے دوعمروں کو جمع کرنے والا ہوجائے گا اس لئے اس پر نئے عمرہ کا ترک کرنا لازم ہوگا جیسا کہ دو عمروں کا احرام باندھنے کی صورت میں حکم ہے اور اس عمرہ کا شروع ہونا صحیح ہوجانے کی وجہ سے اس کی