عمدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کیونکہ اس کو یومِ نحر (قربانی کے دن) میں واقع ہونا افضل ہے ۵؎۔ (۲) یہ حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا لیکن یہ وقوفِ عرفہ سے جو کہ حج کا رکنِ اعظم ہے کم درجہ کا رکن ہے کیونکہ وقوفِ عرفہ کے اپنے وقت پر نہ کرنے سے حج فوت ہوجاتا ہے بخلاف طوافِ زیارت کے کہ اس کے ادا کرنے کے وقت میں آخر عمر تک وسعت ہے اور اگر مرتے دم تک بھی ادا نہ کرسکے تو ایک اونٹ یا گائے کی قربانی کی وصیت کرنا لازم آتا ہے ۶؎ (۳) طوافِ زیارت کے لئے ایک وقت جو ازوصحت کا ہے اور ایک وقت وجوبِ ادا کا ہے ۷؎ پس اس کے لئے جائز اور صحیح ہونے کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور ا س کے جائز اور صحیح ہونے کے لئے آخری وقت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ تمام عمر اس کے جواز کا وقت ہے لیکن اما م صاحب کے نزدیک اس کا ایام نحر میں دسویں ذی الحجہ سے بارہویں ذی الحجہ تک کسی وقت ادا کرنا واجب ہے ۸؎ پس طوافِ زیارت کی ادائیگی میں بلاعذر ایامِ نحر سے تاخیر کرنے میں اس پر دم لازم آئے گا اور گنہگار بھی ہوگا ۹؎ (۴) اگر اس طواف کے بعد سعی کرنی ہے تو اس طواف میں رمل بھی کرے اور اگر احرام کھول کر سلے ہوئے کپڑے پہن لئے ہیں تو اس طواف میں اضطباع نہ کرے (اور اگر ابھی احرام نہیں کھولا اور احرام کی چادریں پہنے ہوئے ہے یعنی وہ حلق کرانے سے پہلے طوافِ زیارت کے لئے آگیا ہے تو اس کو اضطباع بھی کرنا چاہئے ، مؤلف) اور اگر طوافِ قدوم کے بعد حج کی سعی کرچکا ہے تو خواہ طوافِ قدوم میں رمل کیا ہو یا نہ کیا ہو اب طوافِ زیارت میں رمل نہ کرے اور طوافِ زیارت کے بعد سعی بھی نہ کرے اس لئے کہ